وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ملازمتوں کو ختم نہیں کرے گی بلکہ روزگار کے عالمی منظرنامے کو نئی شکل دے گی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کریں تاکہ مستقبل کی روزگار منڈی میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
کیڈٹ کالج حسن ابدال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مستقبل انہی افراد کا ہوگا جو اے آئی کے ٹولز اور جدید ٹیکنالوجیز کو مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے، ای لرننگ کو فروغ دینے اور ہنر پر مبنی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ نوجوان عالمی سطح پر مسابقتی بن سکیں۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ کیڈٹ کالج حسن ابدال اور وزارت آئی ٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت نوجوانوں کو انٹرن شپ اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ تعلیم کے بعد پیشہ ورانہ میدان میں بہتر انداز میں داخل ہو سکیں۔ ایم او یو کے مطابق سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، کوڈنگ اور مواد ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرٹیفیکیشن پروگرامز بھی شروع کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کو دو بڑے طریقوں سے آگے بڑھایا جا رہا ہے: ایک جانب آئی ٹی انڈسٹری کو عالمی منڈیوں میں فروغ دینا، اور دوسری جانب گورننس کو ڈیجیٹل بنا کر شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ نیشنل آئی ٹی بورڈ کے ذریعے وفاقی وزارتوں میں ای آفس سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے جس سے سرکاری دفاتر میں فائلوں کے تعطل کا مسئلہ حل ہوا اور پاکستان کی درجہ بندی اقوام متحدہ کے ای گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 14 پوائنٹس بہتر ہوئی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جلد ہر شہری کے لیے ڈیجیٹل شناختی نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت صحت، تعلیم اور جائیداد کے ریکارڈز کو قومی شناختی نظام کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، اس اقدام سے عوام کو شفاف، آسان اور تیز رفتار سہولیات میسر آئیں گی۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور اگر ان کو درست سمت میں ڈیجیٹل تربیت دی جائے تو وہ نہ صرف قومی معیشت بلکہ عالمی سطح پر بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
Comments are closed.