گستاخ کون؟ فیصلہ مفتی حنیف قریشی کرے یا قانون؟

Saddam Hussain

راولپنڈی پریس کلب میں ہونے والی ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران معروف مذہبی شخصیت مفتی حنیف قریشی نے توہینِ مذہب کے مبینہ ملزمان کی عدالتوں سے رہائی پر شدید برہمی کا اظہار کیا یہ کیس لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے فیصلے سے متعلق تھا، جس میں پانچ ملزمان کو ناقابل تردید ثبوتوں کے باوجود بری کر دیا گیا۔ مفتی قریشی نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹھوس شہادتوں اور ڈی این اے رپورٹس کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے فیصلے جاری رہے تو عوام سروں پر کفن باندھ کر احتجاج کریں گے اور بالواسطہ طور پر ممتاز قادری جیسے واقعات کی دھمکیاں دیں۔ وہی ممتاز قادری جس نے نام نہاد توہینِ مذہب کا سہارا لے کر اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کیا تھا۔ بعد ازاں جب ممتاز قادری کو عدالت کے ذریعے پھانسی دی گئی تو اس کے جنازے کو ایک مذہبی شدت پسند رہنما خادم حسین رضوی اور اس کے گروہ نے ہائی جیک کر لیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک منظم مذہبی و سیاسی جماعت، تحریک لبیک پاکستان نے جنم لیا اور آنے والے ایک عشرے تک ریاست پاکستان کو بارہا گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔

تحریک لبیک کے جلسوں، ریلیوں اور اجتماعات میں ایک ہی نعرہ گونجتا رہا”گستاخ کی سزا، سر تن سے جدا“ یہ نعرہ صرف زبان تک محدود نہ رہا بلکہ عملاً ریاست، قانون، عدالتوں اور شہریوں کے لیے خوف کی علامت بن گیا۔ چاہے ریڈ زون کا دھرنا ہو یا بدنامِ زمانہ فیض آباد دھرنا، ہر احتجاج تشدد، توڑ پھوڑ اور خونریزی پر منتج ہوا۔ فیض آباد دھرنے کے دوران درجنوں پولیس اہلکار اور عام شہری جان سے گئے، اربوں روپے مالیت کی سرکاری و نجی املاک نذرِ آتش کی گئیں اور کئی دنوں تک جڑواں شہروں کو یرغمال بنا کر ایک ایٹمی ریاست کو دنیا بھر میں تماشہ بنا دیا گیا۔اس پورے عرصے میں درجنوں دھرنے اور احتجاجی جلوس منعقد کیے گئے اور تقریباً تمام ہی پرتشدد ثابت ہوئے۔ ان دھمکیوں سے کوئی بھی محفوظ نہ رہا۔ اس مسلک سے منسلک مساجد اور مدارس سے نفرت انگیز بیانیہ مزید شدت کے ساتھ پھیلایا جانے لگا۔ سوشل میڈیا پر اس جماعت کے حامی ہر اْس شخص کو، جو ان کے نظریے یا پالیسی سے اختلاف کرے، بلا جھجھک گستاخِ رسول قرار دے کر قتل کی دھمکیاں دینے لگے۔یہ ایک ایسا ملک ہے جس کی 98 فیصد آبادی مسلمان ہے اور جو دنیا کا دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے، مگر اس جماعت نے یہاں ہر شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا۔ تحریک لبیک کے نفرت انگیز بیانیے کے نتیجے میں اس عرصے کے دوران درجنوں ایسے واقعات سامنے آئے جن میں کسی کو بھی مبینہ طور پر گستاخ قرار دے کر ہجوم کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا، جبکہ کئی مقامات پر کوئی ایک شخص خود کو نام نہاد“غازی”ثابت کرنے کے لیے قانون اپنے ہاتھ میں لیتا نظر آیا۔صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ ملک کے آرمی چیف کو روضہ رسول پر حاضری کے دوران اپنی تصاویر بنوا کر یہ پیغام دینا پڑا کہ وہ ایک سچا اور پکا مسلمان ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور موجودہ وفاقی وزیر احسن اقبال کو بھی انتخابی مہم کے دوران اسی نفرت انگیز پروپیگنڈے سے متاثر ایک نوجوان نے گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا۔

ہجوم کے ہاتھوں قتل کا سب سے لرزہ خیز واقعہ دسمبر 2021 میں سیالکوٹ میں پیش آیا، جہاں ایک فیکٹری کے سری لنکن منیجر پریانتھا کمار کو مبینہ توہین مذہب کے الزام میں اس کے ہی ملازمین نے سرِعام نہایت بے دردی سے قتل کر دیا۔ بعد ازاں تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایک کام چور ملازم کو منیجر نے ڈانٹا تھا، جس نے انتقام کی خاطر اس کے خلاف توہین مذہب کا جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا کر ہجوم کے ذریعے اسے قتل کروا دیا۔اسی طرح جولائی 2020 میں پشاور میں ایک مبینہ توہینِ مذہب کے ملزم کو عدالت کے اندر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ فروری 2022 میں تلمبہ، خانیوال میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام پر مشتاق احمد کو ہجوم نے سنگسار کر دیا۔ فروری 2023 میں ننکانہ صاحب میں محمد وارث کو تھانے کے اندر پولیس حراست کے دوران ہجوم کے ہاتھوں جان سے مار دیا گیا۔ اپریل 2025 میں کراچی میں ایک اقلیتی مسلک سے تعلق رکھنے والا شخص ہجوم کی درندگی کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا۔مردان یونیورسٹی کا واقعہ کون بھول سکتا ہے، جہاں اپریل 2017 میں طلبہ نے اپنے ہی ساتھی مشعال خان کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر صاحبِ شعور شخص کے دل میں یہ خوف بٹھا دیا کہ ”جانے کب کون کسے ماردے کافر کہہ کر، شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے“۔

ستمبر 2024 میں سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ڈاکٹر شاہ نواز کو مبینہ توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں ایک پولیس افسر نے جعلی مقابلے میں اسے قتل کر دیا۔ المیہ یہ کہ ہجوم نے اس پولیس افسر کو ہیرو بنا دیا، پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور جنت کی بشارتیں دی گئیں۔ درندگی یہاں بھی ختم نہ ہوئی اور ہجوم نے ڈاکٹر شاہ نواز کی لاش کو دفنانے کی اجازت نہ دی بلکہ اسے نذرِ آتش کر دیا۔ مئی 2025 میں سرگودھا میں ایک اقلیتی مسلک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔یہ محض چند واقعات ہیں، جن سے اس پورے عہد کی تصویر سامنے آتی ہے۔ تحریک لبیک کی شدت پسندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو بھی بھرے جلسے میں قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ سیاسی رہنماؤں، ججوں اور سرکاری افسران کو ڈرانے کا ایک آسان طریقہ ایجاد کر لیا گیا: ممتاز قادری کی مثال دینا، جس کا واضح مطلب یہی ہوتا تھا کہ تمہیں تمہارا ہی کوئی محافظ یا ماتحت قتل کر سکتا ہے۔

پاکستان میں توہینِ مذہب کے مبینہ ملزمان کا کوئی وکیل کیس لینے کو تیار نہیں، کوئی جج ضمانت تو دور، سماعت کے لیے تاریخ دینے سے بھی گھبراتا ہے۔ اگر کوئی وکیل ہمت کر کے ایسا کیس لڑنے کی کوشش کرے تو اسے بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ نتیجتاً یہ کیس برسوں اور دہائیوں تک فائلوں کے نیچے دبے رہتے ہیں اور ملزم جیل کی سلاخوں کے پیچھے انصاف کی دہائیاں دیتا رہتا ہے۔یوں پاکستان میں مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے توہینِ مذہب ایک مؤثر اور خطرناک ہتھیار بن چکا ہے۔ کئی مقدمات کی تحقیقات میں بعد ازاں یہ ثابت ہوا کہ الزامات سراسر جھوٹ پر مبنی تھے، مگر تب تک یا تو ایک بے گناہ شخص ساری زندگی جیل میں سڑ چکا تھا یا ہجوم کے ہاتھوں مارا جا چکا تھا۔آج ایک بار پھر وہی مفتی حنیف قریشی راولپنڈی پریس کلب میں بیٹھ کر ممتاز قادری جیسے اشارے دے رہے ہیں اور ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ وہی مفتی حنیف قریشی ہیں جن کی 2010 میں راولپنڈی میں دی گئی ایک جذباتی تقریر سے متاثر ہو کر ممتاز قادری نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہین رسالت کے الزام کی بنیاد پر قتل کر دیا تھا۔ ممتاز قادری نے تفتیش میں اس بات کا اعتراف کیا، لیکن مفتی قریشی نے عدالت میں حلف نامہ جمع کروا کر انکار کیا کہ وہ قادری کو جانتے ہیں یا ایسی کوئی تقریر کی۔

یہ وقت کسی رعایت کا نہیں، ریاست کو اب واضح اور فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ مذہب کے نام پر قتل، دھمکی، تشدد اور انتشار پھیلانے والے عناصر قانون کی گرفت سے باہر نہیں رہ سکتے۔ حکومت کو جھنجوڑنا ہوگا، ہجوم کے راستے بند کرنے ہوں گے اور عدالتیں مبینہ توہینِ مذہب کے مقدمات کا فوری، شفاف اور منصفانہ ٹرائل یقینی بنائیں، تاکہ نہ بے گناہ ساری زندگی جیلوں میں سڑیں اور نہ ہجوم کو فیصلہ کرنے کی اجازت ملے۔ عوام سے صریح اپیل ہے کہ وہ نفرت، دھوکہ اور مذہب کے نام پر پھیلائے گئے پروپیگنڈے میں مبتلا نہ ہوں، کیونکہ آج کی خاموشی اور لاپرواہی کل تباہ کن نتائج اور انسانی خون بہانے کی اجازت دینے کے مترادف ہوگی۔ اب وقت ہے کہ ہر شہری، ہر ادارہ اور ہر سرکاری اہلکار ایک ساتھ کھڑے ہوں اور یہ واضح کر دیں کہ پاکستان میں مذہبی درندگی، ہجوم اور نفرت کی سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

Comments are closed.