توہینِ مذہب کا کاروباری نیٹ ورک: پاکستان کے خفیہ بھتہ گروہ کی کہانی

تحریر: صدام حسین

پاکستانکے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ایسا ہولناک نیٹ ورک بے نقاب ہو رہا ہے جو ملک کے سخت گیر توہینِ مذہب قوانین کو مذہبی تقدس کے بجائے ذاتی مفاد اور دولت کے حصول کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ متاثرین اور بعض تحقیقاتی حلقوں نے اس مبینہ گروہ کو ’’بلاسفیمی بزنس گروپ‘‘ (BBG) کا نام دیا ہے جس کی قیادت معروف وکیل راؤ عبدالرحیم سے منسوب کی جاتی ہے۔ الزامات کے مطابق اس گروہ نے سینکڑوں بے گناہ نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر کروڑوں روپے بٹورے، جبکہ متاثرین کو سزائے موت یا عمر قید جیسے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری سماعتوں، میڈیا رپورٹس اور متاثرین کے بیانات سے ایک منظم استحصال کی خوفناک تصویر سامنے آ رہی ہے۔

تحقیقاتی ویب سائٹ ’’فیکٹ فوکس‘‘ اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق اس نیٹ ورک کی بنیاد کم از کم 2022 سے پڑی۔ طریقۂ واردات انتہائی منظم بتایا جاتا ہے: ایک خاتون سہولت کار، جسے اکثر ’’ایمان‘‘ کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے، جعلی نمبروں سے نوجوانوں سے رابطہ کرتی ہے۔ بعد ازاں انہیں واٹس ایپ گروپس میں شامل کر کے ان کے نام سے توہین آمیز مواد پلانٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمات کا خوف دلا کر بھاری رقوم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جو افراد رقم ادا کر دیں وہ بچ نکلتے ہیں، جبکہ انکار کرنے والوں کے خلاف مبینہ طور پر ایف آئی اے (اب NCCIA) کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں۔

راؤ عبدالرحیم پر صرف بھتہ خوری ہی نہیں بلکہ سنگین نوعیت کے دیگر الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ 2022 میں 21 سالہ عبداللہ شاہ کے قتل کا معاملہ سب سے نمایاں ہے۔ پولیس تحقیقات میں راؤ عبدالرحیم کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا اور دونوں کے درمیان رابطوں کے شواہد سامنے آئے۔ متاثرہ خاندان کا مؤقف ہے کہ اس قتل کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کے لیے مقتول کے والد کے خلاف بھی جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم راؤ عبدالرحیم ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کے حامی اسے کردار کشی قرار دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سامنے آنے والی گواہیوں نے اس معاملے کو مزید نمایاں کیا۔ راولپنڈی کے ایک والد نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ ان کا بیٹا تین برس سے جیل میں ہے اور اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا۔ بعض متاثرین کے مطابق ’’ہنی ٹریپ‘‘ کے ذریعے پہلے اعتماد حاصل کیا گیا اور پھر ڈیجیٹل شواہد گھڑے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور این سی ایچ آر نے بھی اپنی رپورٹس میں آن لائن توہینِ مذہب مقدمات میں غیرمعمولی اضافے اور ان کے غلط استعمال کی نشاندہی کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی سماعتیں اس کیس میں اہم موڑ ثابت ہوئیں۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی سربراہی میں مارچ 2025 میں کارروائی کو براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ دباؤ اور خوف کا تاثر ختم ہو۔ عدالتی کارروائی کے دوران فرانزک شواہد میں تضادات، ایک جیسے آئی ایم ای آئی نمبرز اور بعض اہلکاروں کی زبانی ہدایات جیسے انکشافات سامنے آئے۔ اٹارنی جنرل نے بھی ان معاملات کو ’’بڑی غلطی‘‘ قرار دیا اور متعلقہ ادارے کے دفاع سے معذرت کی۔ سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے مبینہ روابط کا ذکر بھی زیرِ بحث آیا جس نے عدالتی نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا۔

اس وقت درجنوں نوجوان جیلوں میں ہیں اور کئی کو سزائے موت کا سامنا ہے۔ راولپنڈی کی عدالتوں نے بعض ملزمان کو ’’آن لائن توہین‘‘ کے مقدمات میں سزائیں سنائیں، جن کی بنیادیں متنازع فرانزک پر تھیں۔ دو مسیحی شہریوں عادل بابر اور سائمن ندیم کو بالآخر باعزت بری کیا گیا مگر وہ شدید ذہنی صدمے سے گزر چکے ہیں۔ متاثرین کی تنظیم ’’وائس آف دی وکٹمز آف بلاسفیمی بزنس گروپ‘‘ کے مطابق اس نیٹ ورک سے سات سو سے زائد افراد متاثر ہوئے اور کم از کم پانچ اموات اس سے جڑی بتائی جاتی ہیں۔

ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر جوڈیشل کمیشن قائم کرے جو اس پورے نیٹ ورک، ایف آئی اے/این سی سی آئی اے میں مبینہ بدعنوان عناصر اور مشکوک مقدمات کی ازسرِنو جانچ کرے۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ توہینِ مذہب قوانین کا غلط استعمال مذہبی آزادی اور انصاف کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

یہ معاملہ محض ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کے نظامِ انصاف کے لیے کڑا امتحان ہے۔ ضروری ہے کہ الزامات کی شفاف تحقیقات ہوں، بے گناہوں کو رہائی ملے اور جو عناصر قانون کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں ان کا کڑا احتساب کیا جائے۔ چار سو سے زائد خاندان آج انصاف کے منتظر ہیں، اور دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ اس بحران سے کس طرح نمٹتا ہے۔

Comments are closed.