تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کو عدالت کیوں جانا پڑا؟

تحریر: زاہد فاروق،اسلام آباد

گزشتہ کچھ روز سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد کیس زیرسماعت ہے جس کیس کا عنوان تطہیر بنت پاکستان دیا گیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اس سے جڑے کچھ حقائق کو جان لیا جائے تاکہ ہم اس کو سمجھ سکیں۔ تطہیر فاطمہ کے والد شاہد علی اور ان کی والدہ کی شادی 1992 میں ہوئی۔ چارسال بعد ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی جس کا نام تطہیر فاطمہ رکھا۔ والدین کے درمیان اکثر ناچاکی تو رہتی ہی تھی لیکن تطہیر کی پیدائش کے بعد اس میں نہ صرف اضافہ ہو گیا بلکہ پیدائش کے چند ماہ بعد ہی ان دونوں میں علیحدگی ہوگئی اور 1998 جب تطہیر صرف دو سال کی تھی شاہد علی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور یوں تطہیر فاطمہ کی پرورش کی ذمہ داری اس کی والدہ کو اٹھانا پڑی۔ جسیا کہ ہمارے معاشرے میں یہی رائج ہے اکثر مرد طلاق دینے کے بعد دوسری شادی کر لیتے ہیں اور پہلی بیوی سے پیدا ہونے والے بچوں کی خبر تک نہیں لیتے لیکن وقت آنے پر یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں وہ ان کے بچے ہیں۔

تطہیر فاطمہ بھی ایک ایسی بچی تھی جس کے والدین کی ناچاکی کی سزا اسے بھگتنا پڑی اور وہ سن 2000 کے بعد اپنے والد شاہد علی سے کبھی نہ مل سکی بلکہ کبھی رابطہ ہی نہ ہوا، جب وہ 18 سال کی ہوئی تو اس کو ضرورت پڑی کہ وہ اپنا شناختی کارڈ بنوائے۔ اب پاکستانی قوانین کے مطابق شناختی کارڈ بنوانے کے لیے ضروری ہے کہ والد کے شناختی کارڈز کی کاپی یا دستاویزات درکار ہوتے ہیں مگر تطہیر کہا ولد تو اس سے اس وقت رابطہ توڑ لیا جب وہ پیدا ہوئی۔ رہتی کسر تب نکال دی جب وہ دو سال کی تھی اور اس کی والدہ کو طلاق دی مگر تطہیر فقط چار سال کی تھی جب اس کے والد نے اسے آخری بار دیکھا تھا اب وہ ماری ماری اپنے والد کی تلاش میں گھومتی رہی تاکہ ان سے مطلوبہ دستاویزات حاصل کرکے اپنا شناختی کارڈ بنوا سکے اور یوں اس تلاش میں بھی اس کے دو سال لگ گئے آخرکار وہ اپنے والد کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئی اور والد کے پاس گئی ۔۔۔۔اس والد کے پاس جو یہ بھول چکا تھا اس کی ایک بیٹی بھی تھی جس کو اس کی ماں نے پالا ،بڑا کیا ، پڑھایا لکھوایا اوراقرا یونیورسٹی میں منیجمنٹ سائنسز میں داخلہ دلوایا جبکہ شاہد علی اپنی دوسری شادی کرکے اس میں محو ہو چکا تطہیر نے اپنے والد کو بتایا کہ اس کو شناختی کارڈ بنوانے کے لیے آپ سے چند دستاویزات کی ضرورت ہے جو کہ نادرا کو درکار ہیں کیونکہ اس کی والدیت کے خانے میں ان کا ہی نام آنا ہے جس پر تطہیر فاطمہ کے مطابق ان کے والد شاہد علی نے اسے کہا کہ وہ اگر یہ سب دستاویزات مجھ سے حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے اسے میرے ساتھ تھانہ جانا پڑے گا اور وہاں یہ لکھ کر دینا ہوگا کہ اس کی والدہ ایک بدکردار عورت ہے۔

معزز قارئین یہ وہ لمحہ تھا جب تطہیر پر قیامت ٹوٹی ہوگی وہ تمام ذمہ داریاں جو باپ نے سرانجام دینا تھیں وہ ایک ماں نے نبھائیں، ماں کے ساتھ ساتھ باپ کے حصے کا بھی پیار دیا اپنی بیٹی کی وجہ سے دوسری شادی کا دل میں خیال بھی نہ لایا اپنی ساری زندگی اپنی بیٹی کے نام کر دی اور دوسری طرف وہ خودغرض باپ کھڑا تھا جس نے اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے دوسری شادی بھی کی اور اپنی بیٹی کی خبر تک نہ لی ۔

باپ کی طرف سے یہ شرط اتنی کڑی تھی کہ تطہیر مجبور ہوگئی کہ ایسے شخص کو کس طرح وہ اپنی ولدیت سے ہی نکال باہر کرے لیکن شاید ایسا ممکن نہ تھا جس کی وجہ سے اس نے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور استدعا کی کہ اس کے شناختی کارڈ میں والد کی جگہ پاکستان لکھا جائے یا تطہیر بنت پاکستان نام دیا جائے۔

جب یہ کیس عدالت میں لگا تو اس کی  سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس کے دیگر دوججز میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن شامل تھے معزز عدالت نے پہلی ہی سماعت کے موقع پر نادرہ کو حکم دیا کہ تطہیر کو اس کے والد کی مطلوبہ تمام دستاویزات مہیا کی جائیں۔ جس پر نادرا نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے فراہم کردیں۔

دوسری بارسماعت  کے دوران جب والد کو عدالت میں پیش کیا گیا تو چیف جسٹس کی طرف سے شاہد علی پر شدید اظہار برہمی کیا گیا اور کہا کہ تم نے والد ہونے کا کوئی حق ادا نہ کیا اور اپنی بیٹی کو کوئی نان نفقہ نہ ادا کیا جوکہ تمہاری ذمہ داری تھا جس پر شاہد علی نے کہا میں اپنی بیٹی سے ملنے کی کوشش کرتا رہا لیکن اس کی ماں نے مجھے اس سے ملنے نہیں دیا اس سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم دیا گیا کہ وہ شاہد علی کی مالی حثیت کا انداز لگائے۔

تیسری سماعت پر ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا  کہ شاہد علی کی کل انکم بیس سے پچیس ہزار ہے جبکہ اس کی دوسری بیوی کی انکم بھی پچیس ہزار کے لگ بھگ ہے جس میں سے شاہد علی کے تین بچے ہیں دوسری بیوی پہلے عیسائی تھی جس کے بعد اس نے اسلام قبول کرلیا ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ شاہد علی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں جس کا دس ہزار کرایہ ہے عدالت نے اس کیس میں مخدوم علی خان کو عدالتی معاون مقرر کردیا۔

یہ وہ تمام کاروائی تھی جو عدالت میں ہوئی اس کا فیصلہ کیا ہوتا ہے اس پر ہم بحث نہیں کر سکتے کیونکہ معاملہ عدات میں زیر بحث ہے۔

لیکن یہ واقعہ ایک طرف ہمارے معاشرے میں مرد کی سرد مہری کا پردہ چاک کرتا ہے تو دوسری طرف شاہد علی جسیے باپ کے کردار کو سامنے لاتا ہے کیونکہ ایک تطہیر فاطمہ اپنا کیس ملک کی سب سے بڑی عدالت میں لے کر آئی ہے اس جیسی نجانے کتنی تطہیر بنت پاکستان اپنی آواز اٹھانے سے ڈرتی رہتی ہیں کہ کہیں ان مردوں کے معاشرے میں ان کی آواز پلٹ کر انھی کے کانوں گونج گونج کر انھیں زخمی نہ کردیں۔

Comments are closed.