آج ٹیکنالوجی کی بدولت کرہ ارض کا نقشہ اس حد تک تبدیل ہو چکا ہے کہ دنیا نے ایک گلوبل ویلج کی شکل اختیار کرلی ہے۔ انسان کے لیے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے تک رسائی اور بات کرنا نہایت آسان اور فوری ہو گیا ہے۔ ماضی بعید میں انسان ایسا تصور بھی نہیں کرتے تھے۔
اس گلوبلائیزیشن کے نتیجے میں تمام گروہوں، مذاہب اورفرقوں کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر موجود ہیں جسے ہم سوشل میڈیا کے نام سے جانتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کی بدولت ناصرف مختلف مذاہب کے لوگ گفتگو کر رہے ہیں بلکہ ایک اورطبقہ جسے ہم دہریہ یا ایتھیسٹ کے نام سے جانتے ہیں جن سے ہم خیالات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ جن کے مطابق تمام مسائل کی جڑ مذہب اور تمام پریشانیوں اور مظالم کا حل انسانیت کا مذہب ہے۔
ایک مشہور زمانہ مذہبی اسکالر سے ایسے ہی ایک ایتھیسٹ نے کچھ یوں پوچھا کہ اللہ کیوں چاہتا ہے کہ ہم اس کو ایک مانیں اور اس کو کسی کا شریک نہ بنائیں؟ اور کیا اس حکم میں اللہ کی انا نظر آتی ہے، اس کا مزید یہ کہنا تھا کہ تمام مظالم کی جڑ مذہب ہے اور اور ہمیں کسی خدا کی ضرورت نہیں اور تمام انسان “انسانیت” کے جھنڈے تلے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ ہمیں مذہب نے صرف فرقوں میں تقسیم کیا بلکہ مظالم اور دہشت گردی ہی دی ہے۔
انسانی عقل ارتقاء کے مراحل سے گزر کر اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اس کی ذہانت اس چیز پر بھی آمادہ نہیں کہ وہ خود کو کسی مذہب کے ماتحت متعارف کروائیں جیسے کہ ہندو یا سکھ یا مسلمان۔۔۔۔۔ اسی ارتقاء نے تمام مسائل کا حل لادینیت نکالا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ارتقائی ذہن اپنی عقل، سائنس، ٹیکنالوجی، ایجاد اور کھوج کو ہی اپنا خدا بنا بیٹھاہے۔
اسی ارتقائی عمل اور ارتقاء یافتہ عقل نے انسان کو مفاد پرستی کا بھی تحفہ دیا ہے۔ مذہب کو ماننا اور عمل پیرا ہونا ترقی میں رکاوٹ نظرآنے لگی ہے۔ مذہبی افراد جب دہریہ حضرات کو دیکھتے ہیں تو انہیں اپنی زندگی ان سے کم تر دکھنے لگتی ہے۔ اور سود جس پر امریکہ جیسے ملک کی پوری معیشت انحصار کر رہی ہے گناہ نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا “گُر” نظر آنے لگتا ہے۔
اسی طرح جوا، زنا، شراب، مرد اور عورت کی آپس میں آزادانہ طور پر نہ مل بیٹھنا جبر محسوس ہونے لگتا ہے تو وہ بھی اس “کوایگزسٹ” کے نظریئے کو مان کر “انسانیت” کے جھنڈے تلے خود کو بہت سرخرو محسوس کرتا ہے۔ چلو انسانیت نے اگر معاشرتی برائیوں کو قبول کرتے ہوئے اس ارتقائی عقل رکھنے والے انسان کا مسئلہ کوایگزسٹ سے حل کر بھی دیا جو تمام گناہوں کو قبول اور معمولی بنانے کی قیمت ادا کرکے ہوا۔ لیکن یہ “انسانیت” کا مذہب اب بھی بہت ہی بنیادی سوال کا جواب دینے سے لاچار ہے۔
وہ یہ کہ خالق کائنات و انسان کون ہے اور کیسے یہ سارا نظام چلا رہا ہے؟ ایسا نظام جو بنا کسی غلطی اور تعطل کے صدیوں سے نا صرف چلتا آ رہا ہے بلکہ انسانی ارتقاء اور بقا کے لیے بھی نہایت موزوں اور مفید ثابت ہوا ہے۔ موجودہ سائنسی تحقیق اس حد تک کے نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ انسانی جسم میں موجود منرلز اور کیلشیم شمسی نظام میں موجود مختلف گیلیکسیز سے لیے گئے ہیں اور اس سیارہ زمین کا درجہ حرارت، سورج اور چاند سے فیصلہ اور تمام چھوٹے سے چھوٹے نقطے بھی انسان اور زمین پر موجود تمام جانداروں کے لیے آئیڈیئل کنڈیشن ہیں۔
ایک ایسے نظام کا وجود جس میں چاند اور سورج ستارے اور باقی تمام سیارے بھی ہر وقت ایک حساب سے چل رہے ہیں۔ جن میں کبھی بھی کوئی سسٹم ذرہ کولیپس نہیں کرتا، اپنے بنانے والے کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ ایک نظام ہے جسے سائنسدان صرف پڑھنے اور کھوجنے کی صلاحیت اور قوت رکھتے ہیں مگر اُن کی ٹیکنالوجی اور انسانی ذہن، آنکھ، سوچ کی ایک حد ہے جس سے آگے نہ ہی وہ سوچ سکتے ہیں نہ ہی دیکھ سکتے ہیں۔
اس انسانی وجود سے بھی انسان کی عقل اور مشاہدہ بہت سے عقلی ثبوت حاصل کر سکتا ہےجس سے معلوم ہو کہ اسکا خالق کون ہے؟ مختلف مذاہب کے ماننے والے افراد سمجھتے ہیں کہ ان کو الگ الگ خداوں نے تخلیق کیا ہے۔ ہندو کا تصور ہے کہ اُسے کسی ہندو خدا نے تخلیق کیا ہے، عیسائی کو عیسائی خدا نے اور سکھ اور یہودیوں کو کسی اور خدانے تخلیق کیا ہے۔ اور مسلمانوں کو ان کے اللہ نے بنایا ہے۔
جب کہ انسانی جسم اور اس میں موجود تمام انسانی نظام اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ ان کا خالق ایک ہی ہے کیونکہ انسانی جسم کا ڈیزائن ایک ہی ہے۔دو کان، دو آنکھیں، ایک ناک ، دو ہاتھ ، دو ٹانگیں، ایک دھڑ۔ جب سے انسان اس قرہ ارض پر آیا ہے اسی شکل میں آیا ہے۔ اگر ان تمام
انسانوں کے بنانے والے مختلف ہیں تو تمام خداوں نے ایک ہی ڈیزائن پر کیوں اکتفا کیا؟ یا پھر کانسا خدا کس خدا کی نقل کر کے ایک دم ویسا ہی انسان تخلیق کر رہا ہے؟
یہ تمام عقلی اور ارتقائی سوال ہیں جو آج کے انسان کو پوری طرح سے زیب دیتے ہیں جو مشاہدہ اور اپنی پانچ حسواں پر کسی بھی چیز سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ اگر ہم صرف انسانی ہاتھ کا ہی جائزہ لے لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ دنیا کے رمام انسانوں کی ہاتھوں کی لکیروں سے اردو گنتی کا ۸۱ لکھا ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ تمام انسانوں کا خالق ایک ہی ہے۔
موجودہ سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ کائنات میں موجود مختلف ایٹامک باڈیز کے اندر موجود “سب اٹامک پارٹیکلز بلکل اسی طرح “ایکٹ” اور “ری ایکٹ” کرتے ہیں جس طرح انسانی جسم میں موجود ایٹمز کی حرکت ہوتی ہے۔ سائنس اس نتیجے پر بھی پہنچ چکی ہے کہ تمام کائنات کا “سورس” ایک ہی ہے لیکن سائنس اس سورس کو سمجھنے سے قاصرہے۔
کیونکہ وہ یہ مشاہدہ تو کر سکتے ہیں کہ صف ہستی پر موجود تمام انسان ماحولیاتی تبدیلیاں جیسے گلوبل وارمنگ سے یکساں متاثر ہوتے ہیں اور ہو رہے ہیں اور شمسی نظام میں ہونے والی تمام تبدیلیاں اور حرکات و سکنات، چاند اور سورج کی آربٹ سے دوری یا نزدیکی یا اُن کی رفتار تمام انسانوں کی صحت اور جسمانی و ذہنی ارتقاء پر باہمی موثرہے مگر ان کا علم “کبر” کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
جب کائنات ایک، نظام ایک، انسانی جسم، ڈھانچہ اور تمام انسانوں کا ارتقائی سفر ایک تو خالق کیونکر دو یا دو سے زیدہ ہو سکتے ہیں؟ یہ تفرقہ خالق کائنات نے نہیں رکھا۔ اگر خالق کائنات کو تفرقہ ڈالنا ہوتا تو وہ چاند کو حکم دیتا کہ ہندو کو چاندنی سے محروم رکھو ، صرف مسلمان کو دو، یا یہودی کو سورج کی روشنی میسر نہ ہو یا مسلمان کو قرہ ارض پر چلنے کی اجازت نہ ہو۔ مگر یہ تفرقہ تاریخ کے مذہبی پیشواوں نے ڈالا ہے جنہوں نے انسان کو یہ تصور دیا کہ اُن کے خدا مختلف ہیں اور دوسرے مذاہب کے انسانوں کو قتل کر کے ہی اُن کی “جزا” یا سیلویشن ہو پائے گی۔
یہ تفرقہ مذہبی پیشواوں نے اپنی اہمیت بڑھانے کے لیے ڈالا ہے۔ مگر حقیقت میں جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ اس کا خالق ایک ہی ہے تو وہ کبھی بھی دوسرے انسان کو تکلیف یا نقصآن پہنچانے کا نہیں سوچ سکتا کیونکہ وہ اس نظریہ سے عاری ہو جاتاہے کہ اس کے بھگوان، جیسز یا خدا نے کسی انسان کی تذلیل کا حکم اُسے دیا ہے۔ لہذا خدا کو ایک ماننے میں خدا کی انا کی تسکین نہیں بلکہ “کو ایگزسٹ” کا آسان ترین فارمولہ ہے۔ جس میں تمام انسان کی بھلائی کا راز پوشیدہ ہے۔
ثناء شبیر ینگ جرنلسٹ ہیں جو راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز میں کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں اور آج کل نیوز ڈپلومیسی سے وابستہ ہیں۔
Comments are closed.