آج انسانی دماغ ارتقاء کے مختلف مراخل طے کرکے علم و ذہانت کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ دور میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ ذہانت، یہ شعور، یہ علم و حکمت اور یہ صلاحیتیں اسی دور کے انسان کا زینہ بنی ہیں۔ اب جبکہ یہ دماغ اور تمام فکری صلاحیتیں اپنے عروج کو چھو رہی ہیں، غور طلب بات یہ ہے کہ اس علم و ذہانت نے انسانی زندگی میں سکینت اور اطمینان فراہم کیا ہے یا پہلے سے موجود سکون اور انسانی اقدار کی بنیادیں ہی کھوکھلی کر دی ہیں۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ہر ایجاد اور جدید آسائش جو اپنے ساتھ فوائد لاتی ہے کہیں نہ کہیں نقصانات بھی رکھتی ہے۔ کسی بھی نئی ایجاد یا فکر کو مثبت یا منفی ڈبے میں اس وقت تک نہیں ڈالا جا سکتا جب تک کہ اس کے منفی اور مثبت پہلوِوں کو مکمل طور پر جانچ نہ لیا جائے۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ جدت پسند انسانی رویے اور فکر کتنے فیصد مفید ثابت ہو رہے ہیں۔
چند برس پہلے تک انسان کو انسانی نفسیات کو سمجھنے کا اتنا علم نہیں تھا جس حد تک اب حاصل ہو چکا ہے۔ کسٹمر سائکالوجی کو سمجھتے ہوئے سیلز بہتر بنائی جا سکتی ہیں اور انسان کو وہ چیز لینے پر بھی قائل کیا جا سکتا ہے جس کی اسے ضرورت بھی نہ ہو۔ کسٹمر سائکالوجی کا ماہر انسان خوب جانتا ہے کہ کوئی بھی چیز بیچنے کے لیے کونسا خربہ استعمال کیا جائے کہ ٹارگٹ کسٹمر کو وہ چیز خوب لبھائے اور وہ ہرحال میں اُس چیز کو خریدنے پر مجبور ہو جائے، چاہے اس کی جیب پر کتنا ہی بھاری کیوں نہ پڑے۔ توثابت یہ ہوا کہ انسان اپنے مفاد کے حصول کے لیے دوسرے انسان کا نقصان کرنا بے حد احسن طریقے سے سیکھ گیا ہے۔ جب تک اپنا کاروبار کامیاب ہو رہا ہے دوسرے انسانا کی ذہنی اور مالی حالت کا احساس کرنے کی قطاْ ضرورت نہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا کے ذریعے ہر وقت بے تہاشا اشتہارات کی بھرمار سے انسانی ذہن ہر وقت اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ جو اُس کے پاس موجود ہے، چاہے وہ کپڑے ہوں، لائف اسٹائل ہو یا چھٹیاں گزارنے کا کوئی پلان، وہ دنیا سے کم تر ہےاور اسے مزید کی ضرورت ہے۔ انسان کو ہر وقت یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ جو زندگی وہ گزار رہا ہے وہ باقیوں کے مقابلے میں ادنٰی ہے ، لہذا اپنی ذات اور لائف اسٹائل کا موازنہ دوسروں کے ساتھ کرنے کی وجہ سے انسان کی زندگی سے اطمینان اور سکون مکمل طور ہر غائب ہوتا جا رہا ہے۔
اب آتے ہیں سماجی رابطوں کی ویب سائتٹس یعنی سوشل میڈیا کے ایک اور زاویے پر جو کہ ہے سماجی رابطوں میں تیزی، آسانی اور قربت کا احساس فراہم کرنا۔ سماجی رابطے رکھنا انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ مگر سوشل میڈیا نے کوانٹَٹی [یعنی مقدار] فراہم کر کے کوالٹی [یعنی معیار] کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا ہے۔ انسان دوستوں، فالوورز اور لاِئکس کی گنتی میں مگن ہے۔ اُسے یہ گنتے اور بتاتے فخر محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر اُس کے کتنے دوست اور فاوورز ہیں چاہے اُن سے کبھی اصل زندگی میں ملاقات بھی نہ ہو پائے مگر وہ اُن کی آئو بھگت اور اُن کو متاثر کرنے میں اتنا مصروف رہنے لگ گیا ہے کہ اُسے اپنے خونی رشتے ، بہن بھائی یہاں تک کہ ماں باپ کے لیے نہ ہوش رہتا ہے نہ ہی وقت ملتا ہے۔
اپنا سارا وقت اور توانائی دوسروں کی داد موصول کرنے میں خرچ کرنے بعد جب رات کو تکیے پر سر رکھ کر سونے لگتا ہے تو خود کو اکیلا اور تنہا محسوس کرتا ہے۔ اُس کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اگر میں نے اپنے مصائب، مشکلات اور جذبات اگر کسی کے سامنے ظاہر کر دیئے تو کوئی مجھے کم تر سمجھنے لگ جائے گا۔ جبکہ وہ تمام وقت سوشل میڈیا پر سب کو خوش اور کامیاب ظاہر کرتا ہے۔ مگر وہ ایک جھوٹ جی رہا ہے، حقیقت سے مکمل دور۔۔۔۔ کہنے کو تو یہ سوشل میڈیا لوگوں میں قربتیں بڑھانے اور انسانی رابطوں کو وسیع کرنے کے لیے ایجاد کیا گیا۔
مگرحقیقی طور پر اپنے سگے بہن بھائیوں ، دوست و اقارب سے بھی دور لے گیا کیونکہ ان ویب سائٹس نے انسانی رشتوں کی مضبوطی کو ناپنے والے عوامل کو کھوکھلا اورسراب زدہ کر دیا ہے۔ ہر انسان اپنے تعلقات میں تحیلاتی توقعات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی دوڑ میں لگا ہو ہے جس کی وجہ سے اُسے بار بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اوررشتوں میں اپنی غیر حقیقی اور سراب پر مبنی خواہشات اور توقعات کے پورے نہ ہونے کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
علم و ذہانت کی یہ بے سمت پرواز یہاں تک رُکتی نہیں بلکہ انسانی ذہانت نے آرٹیفیشل فارمنگ یعنی مسنوئی کاشتکاری میں بھی قدم رکھ کر کافی نام کما لیا ہے۔مسنوئی کاشتکاری کے ذریعے اب پودوں کو سورج کی روشنی میں نہیں بلکہ مسنوئی حرارت پہنچا کر تیار کیا جاتا ہے ۔ سورج کی روشنی میں موجود وٹامن مسنوئی حرارت میں موجود نہیں ہوتے لہذا پھل اور سبزیاں سب اپنی غذائی افادیت کھو چکے ہیں۔ خوراک کی پیداوار کے حوالے سے یہاں میں [جی ایم او] یعنی جنیٹیکلی موڈیافائد آرگنزم کا بھی تذکرہ کرنا چا ہوں گی۔ جس میں پھلوں سبزیوں اور جانوروں کی جینز کو تبدیل کر کے غیر روایتی طریقے سے پیدا کیا جاتا ہے۔
بائیو انجینیَرنگ کے ذریعے تبدیل ہونے والے ڈے این اے سے تیار شدہ خوراک میں کوئی بھی قدرتی غذائیت برقرار نہیں رہتی اور وہ خوارک چاہے دکنھے میں ویسی ہی نظر آئے مگر کھانے میں مفید ہونے کی بجائے نقصان دہ ہی ثابت ہوتی ہے۔ لہذا یہاں بھی غور طلب بات یہ ہے کہ اس علم و ہنر کے چراغ تلے پوری انسانیت اندھیرے میں ہی ڈوبتی جا رہی ہے اور اپنی ذہانت سے ہی اپنی صحت اور بہبود کا بیڑہ غرک کر رہی ہے۔
مسنوَئی اور ناقص غذا تو جسمانی صحت کے لیے مضر ثابت ہو ہی رہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ شعور و ذہانت کی بے لگام و بے سمت دوڑ میں آئے روز ٹیکنالوجیکل گیجٹس میں بھی بے ہنگمم ایجادات کا دور دورہ ہے۔ موبائیلوں کے نئے ماڈل، لیپ ٹآپس کے نئے ماڈل، کاڑیوں کے نئے ماڈل، یہاں تک کہ گھریلو اشیاء جیسے فریج، مائیکروویو اور واشنگ مشینوں میں بھی آئے رعز تیزی سے جدت آتی جا رہی ہے۔ یہاں مسئلہ ایجادات سے نہیں بلکہ اُس ذہنیت کے پروان چڑھنے سے ہے جوہر وقت بہتر سے بہتر کی دوڑ میں لگے رہنے پر مجبور کرتی ہے اور انسان کے ذہن سے اطمینان وسکون چھین کے اُس کو ہر وقت احساس کمتری میں مبتلا رکھتی ہے۔
اس لگاتار اپ گریڈیشن کی سوچ اور پیچھے اور کم تر رہ جانے کا خوف انسان کو اندر ہی اندر اضطراب میں مبتلا رکھتا ہے کیونکہ لوگ اُس کی عزت اور قدر اسکے موبائل فون، گاڑی کا ماڈل اور رہائش کا معیار دیکھ کرہی کریں گے اور اگر وہ ان کے حصول میں اپنے حلقے سے پیچھے رہ گیا تو اُس کی ساکھ مضبوط نہیں رہے گی۔ لہذا روئے زمین پر موجود تمام انسان اُس معدیت پرست بھیڑ چال میں وہ سب حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے بنا یہ سوچے اور جانچے کہ آیا وہ تمام چیزیں جن کو پانے کے لیے میں اپنا ذہنی اور جسمانی سکون برباد کرف رہا ہوں وہ میرے لیے کسی بھی طرح سودمند بھی ہیں یا بس میں خود کو دنیا کے سامنے منوانے میں مصروف عمل ہوں۔
یہاں سب سے حیران کن اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ یہ سب بے سود کاوشوں کا حصہ بننے والا انسان ارتقاء و شعور کے سنہری دور کا حصہ ہے جہاں اُس میں تنقیدی اور تجزیاتی سوچ کا عنصر پچھلی نسلِ انسانی کے باشندوں سے ہزار گنا زیادہ پایا جاتا ہے اور سکول اور کالجوں میں سکھایا جا رہا ہے کہ سوال کرنا سیکھو اور انگریزی کے لفظ وائے یعنی “کیوں” سے تمام اعمال کا آغاز کیا کرو یعنی کہ جو مجھ سے کرنے کو کہا گیا ہے وہ میں کیوں کر رہا ہوں وغیرہ وغیرہ۔
مگر ان تمام مندرجہ بالا امثال سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا یہ علم و ذہانت اُسے نہ ہی تو کچھ سوچنے کا موقع دے رہی ہیں اور نہ ہی سوال کرنے کا کہ آیا اُس کا یہ شعور و آگاہی اُس کی اپنی ذات اور نسل انسانی کی بقاء میں مدگار ثابت ہو رہے ہیں یا اُس کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں میں اضافے کا ہی سبب بن رہے ہیں ۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان تھوڑا سی دیر رُک کے سوچے کہ آخر اُس نے اس ععلم و ذہانت کے بے لگام گھوڑے کو کتنا اور کہاں تک دوڑانا ہے اور یہ تمام ایجاد و اختراع اس کے لیے اور اس کی آنے والی نسل کے لیے آسانیاں کامیابیاں، سکون و صحت لا رہی ہے یا وہ اپنی ہی علم وذہانت کا شکار بنتا جا رہا ہے؟
ثناء شبیر ینگ جرنلسٹ ہیں جو راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز میں کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں اور آج کل نیوز ڈپلومیسی سے وابستہ ہیں۔
Comments are closed.