
دانشور کہتے ہیں زمین پر پھیلتے سائے رواں وقت کی منادی کر رہے ہوتے ہیں۔ مطلب کہ دن کی روشنی سے اس وقت تاریکی کا کتنا فاضلہ رہ گیا ھے ۔ اس کا اندازہ لگا کر انسان اپنا کام سمیٹنا شروع کرتا ہے ۔ جب رات چھا جائے روشنی تاریکی میں چھپ جائے تو بھی وقت کی منادی جاری رہتی ھے کہ صبح کے اجالوں کو تم تک پہنچنے میں اور کتنی گھڑیاں اور پل باقی رہ گئے ہیں۔ ان ساعتوں کا یہ پیغام ان شب بیدار فقیروں کے لیے ہوتا ہے جو ذکر اللّٰہ اور شکر اللّٰہ میں محو ہوتے ہیں۔ یہ فطرتی سلسلہ بلا کسی تعطل کے چلتا رہتا ںے اور تا قیامت چلے گا۔
صاحب دانش اور فکر فردا کرنے والے مفکرین بھی اپنے حلقہ اربابِ و بست کشاد میں حالات حاضرہ پر تبصرے کرتے ہوئے اپنی قوم کو ایسی پیش گوئیاں سناتے رہتے ہیں۔ جس سے وہ اپنے مستقبل کے اہداف متعین کرتے اور ان کے حصول کے لیے لائحہ عمل ترتیب و تشکیل دیتے ہیں۔ صاحبان علم و خیال یقین رکھتے ہیں۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں۔
سکوت اک میسر ہے تغیر کو زمانے میں۔
بات وحدت قوم کی ہو رہی ہو ، تو اس حقیقت کو نظر انداز کیسے کیا جاسکتا ہے کہ اگر کسی قوم یا آزاد ریاست کے قیام کے لیے کچھ عناصر (علاقہ ،عوام یعنی آبادی، اقتدارِ اعلیٰ اور خودمختار حکومت ) کا یکجا ہونا ضروری ھے تو پھر ریاست کے ٹوٹنے کے بھی کچھ عوامل ہوں گے۔ ان میں سے ایک ٹوٹ جائے یا توڑ دیا جائے تو ریاست کی وحدت بکھر جاتی ہے۔
پاکستان کی فیڈریشن کی اکائیوں کو اگر مرکز کسی بھی پہلو سے مرکزی فیصلوں میں نظر انداز کر ے گا تو بد گمانیاں ، شکوے شکایات تو پیدا ہوں گے جیسا مشرقی پاکستان میں ہوا تھا۔مرکزی حکومت کو لہذا اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہیے تا کہ مرکزیت قائم کرنے والی اکائیوں کو کسی طرح سے اور کسی بھی قسم کا گلا نہ ہو۔
پاکستان کے دشمن ممالک اور اندرونی و بیرونی قوتیں ، پاکستان کے لئیے شروع سے معاندانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو ان بے وجود مسائل یا انتہائی معمولی واقعہ کو بھی خواہ مخواہ بڑھا چڑھا کر میڈیا میں نمایاں بنا کر پیش کرتے ہیں۔ جیسے بلوچستان میں کوئی چھوٹا سا بھی اختلافی نقطہ نظر ابھرے تو اسے یہ بد طینت ہمارے دشمن اسے فوراً صوبہ بلوچستان کی علیحدگی تک لے جاتے ہیں۔
آج کل کے عدم سیاسی استحکام کے ماحول میں حکومتی ڈور کو پکڑنے والوں کو غیر معمولی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کہ۔دشمن ہمیں کہیں بھی ریاستی مسائل سے بے خبر یا سست نہ۔پائے۔
بین الاقوامی میڈیا نے یوگوسلاویہ کے ٹوٹ کر بکھرنے کے سانحہ کی باتیں 1980 ہی میں شروع ہو گئی تھیں ،جے بی ٹٹو، کا انتقال ہوا تھا۔ یوگوسلاویہ میں پہلے سے نسلی اور لسانی مسائل سر اٹھا چکے تھے۔ فکرمند حلقوں نے خطرات کو بھانپ کر اس طرح ۔معاملات کو اچھالا کہ وہی ہوا جو یوگوسلاویہ تو نہیں چاہتا تھا مگر عالمی طاقتوں نے طے کر رکھا تھا۔ ایسے پیچیدے مسائل سے نمٹنا اور مشکل حالات کا سامنا کرنے یقیناً بہت بڑی ذہانت تحمل اور تدبر درکار ہوتا ھے ۔ اسی لیے کہا جاتا ھے ، امور سلطنت شیروان می داند۔۔
پاکستان میں بھی فیڈریشن کی اکائیوں کی زبانیں بھی مختلف اور بہت ساری سماجی اور ثقافتی قدریں بھی مختلف ہیں۔ اس لیے مقتدر حلقوں کو چار آنکھوں سے دیکھ کر بے شمار پہلوؤں کو سامنے رکھ کر قومی فیصلوں کو کرنے کی ضرورت ھے۔ چھوٹی سی جھول بہت بڑے پچھتاوے کا سبب بن سکتی ہے، یہ خاکسار یہی تمنا رکھتا ہے اور ارباب حل و عقد۔ سے گذارش بھی کرتا ہے کہ اپنے وطن اپنی ریاست اپنی قوم کے افراد کو آپس میں جوڑ کر رکھنا، انہیں ایک دوسرے سے دور نہ ہونے دینا ۔ اگر ریاست کے شہری آپس میں جڑ جائیں تو وہ بہت بڑی طاقت بن جاتے ہیں۔ ہندوستان میں بکھرے ہوئے مظلوم ، محکوم اور انگریزوں کے غلام مسلمانوں کو محمد علی جناح نے اسی اصول کے ت آپس میں جوڑ کر ہی آزاد پاکستان بنایا لیا تھا جس فارمولے ، اصول اور نظریے کے تحت پاکستان بنایا گیا تھا انہیں عوامل پر کاربند رہ کر ہی ہم اس کی وحدت کو قائم رکھ سکتے ہیں۔
Comments are closed.