کراچی۔۔۔دارالحکومت یا دارالخراب

تحریر:بشیر سدوزئی

کراچی، ایشیاء کا پیرس، کراچی ملکہ مشرق، کراچی روشنیوں کا شہر، کراچی غریبوں کا شہر، کراچی پاکستان کا معاشی حب، کراچی منی پاکستان ۔ ماضی میں دلفریب ناموں سے پکارا جانے والا خوبصورت اور لاڈلا کراچی آئی سی یو میں بستر مرگ پر ہے، طبیبوں جلدی کرو پاکستان کی معشیت مر رہی ہے ۔ معشیت کی ترقی اور نئے پاکستان کی جتنی بھی نعرے بازی کرلیں، مرض کا علاج کئے بغیر مریض ٹھیک نہیں ہوتا ۔ کینسر کے مریض کو تب دق کی دوا سے کیسے ٹھیک کرو گے؟ ۔

کراچی کو آئی سی یو سے نکالے بغیر پاکستان کا مرض کیسے ختم کر سکتے ہو، اے وقت کے طبیبوں کچھ تو سوچو، کراچی آج تباہ حال ہے، آج کراچی کے شہریوں کو ایسی کوئی ایک بھی سہولت نہیں جو ایک سو سال پہلے 1920 میں موجود تھی۔ 2020 کی نہیں 1920 کی سہولتیں دے دو۔ کراچی پاکستان کو مشکل معاشی صورت حال سے نکال دے گا ۔ لیکن یہ لگتا نہیں کہ ممکن ہو جائے ۔ اس وقت شہر کا نظم ونسق جمشید نصروانجی جیسے پارسی کے پاس تھا، اگر کوئی مسلمان اس نظام میں شامل تھا تو قاضی خدا بخش، حسن علی آفندی، جیسے درویش اور انسان دوست ۔

یہ وہ لیڈر تھے، شہریوں کی فکر میں راتوں رات جن کے بال سفید ہو جاتے، جن کو انسانوں کی تو فکر تھی ہی جانوروں کے لیے مختلف چوراہوں پر پانی کی ٹینک تعمیر کراتے۔ جن کو شہر میں کوئی زخمی جانور نظر آتا تو اس کو خود اسپتال پہنچاتے، پاکستان بن گیا ملک کا دارالحکومت بھی بن گیا، پھر صوبے کا دارالحکومت ہوا، لیکن جب ، جب جمہوریت بحال ہوئی کراچی دار الحکومت نہیں، دار الخراب اور لیڈر کراچی والوں کے لیے دار کش بنے رہے۔

یہ دو چار سال کی بات نہیں ہر دور میں کرسی اقتدار پر آنے والے کسی ایک نے بھی کراچی کو اپنا شہر نہیں سمجھا۔اس ملک کا معاشی حب نہیں سمجھا ۔ پاکستان کا اہم شہر نہیں سمجھا۔ اس نے کبھی یہ اساس نہیں کیا کہ اس شہر نے اس ملک کے 20 کروڑ سے زیادہ غریبوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ ان غریبوں کی خاطر ہی اس پر توجہ ہو جائے ۔ہاں توجہ رہی کراچی کی زمین پر، کچی آبادیوں نے زمین ختم کر لی تو پارکوں، گرین بلٹ، کھیل کے میدان بھی نہ بچے۔ وہ تمام ہوئے تو ندی نالوں کا نمبر آیا تو سب کام تمام ہو گیا ۔

اس صورت حال میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ آج میں اور میرا خاندان زمین پر سوتے ہیں، سڑک سے چار فٹ اونچے مکان میں پانچ فٹ پانی داخل ہو جائے تو گھر میں باقی کیا بچے گا یہ تو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے، ایسے ہزاروں نہیں لاکھوں گھر اور خاندان ہیں جو برباد ہو گئے ۔ بے شک بارش تو بہت ہوئی لیکن یہ سوال تو بنتا ہے کہ 1947ء میں جو قدرتی نالے انگریزوں نے پاکستان کے حوالے کئے تھے وہ اپنی اصل پوزیشن میں ہیں ۔ اگر نہیں تو اس کا کون ذمہ دار ہے کسی پر ذمہ داری تو آئید ہونا چاہئے، کوئی تو اس کا ذمہ دار ہو گا ۔

چلیں اس کو بھی چھوڑتے ہیں” پیچھے مٹی پاو” آگئیں یہ سب بحال ہو جائیں گے ۔ قابضین کے لئے متبادل کی شرط کیوں؟ قابضین سے تو نالے خالی کرا کر چینلائزشن کی جائے تاکہ آئندہ کبھی ایسا نہ ہو ۔ اسی کا کیا کہنا ،انسان کی بنیادی ضرورت کی کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جو کراچی کے شہریوں کی ضرورت کے مطابق میسر ہو۔ ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج ، اسپتال، تعلیمی ادارے، سڑکیں، تفریح منصوبے، حتی کہ صفائی ستھرائی، کراچی کے مسلمان کا نصف ایمان خطرے میں ہے۔ پہلے شور تھا کہ کراچی کا کچرا ندی نالوں میں ڈالا جا رہا ہے ۔ اب تو ندی نالے ہیں ہی نہیں ۔ کوئی ایک سڑک، کوئی چورہا، کوئی گلی ایسی نہیں جہاں کچرے کے ڈھیر نہ ہوں ۔ہائے ملکہ مشرق اور ایشیاء کے پیرس کا کیا حال ہے کوئی دیکھ نہیں سکتا، کوئی سن نہیں سکتا، کراچی میں سب اندھے بہرے ہو جاتے ہیں ۔

اب تو کراچی کے لیے یہ کہاوت ہے کہ “کراچی،کھول آنکھ، مکھی دیکھ، مچھر دیکھ، کچرا دیکھ، کرنٹ دیکھ “۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون سا مسئلہ زیادہ خطرے ناک ہے ۔کوئی ایک مسئلہ ہو جو ان 73 برسوں میں حل ہوا ہو۔ کیا اس ملک کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں کہ 40 برسوں میں ایک بس ہی یہاں کے عوام کو مل جاتی، پرویز مشرف کے دور میں سٹی ناظم مصطفی کمال جو بسیں لایا تھا ان کے جانے کے ساتھ ہی بند ہو گئیں تھی۔

بلاول بھٹو زرداری نے ان کھڑی بسوں کو سڑک پر لانے کی کوشش کی نہ معلوم اب وہ کیسی ہوں گی۔ ان مسائل پر کسی نے توجہ ہی نہیں دی مگر کیا، کیا جائے کراچی کے عوام بھی بڑے سادہ ہیں یا یرغمال، ہر دور میں جمہوریت کا جھنڈا لے کر کھڑے رہتے ہیں ۔حالاں کہ اگر کسی نے آنسوؤں پونچھے تو آمروں نے پھر کراچی والوں کے لیے “بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے کیوں بہتر ہے ” ۔

وزیراعظم عمران خان نے 111 ارب کا بھاری بھرگم کراچی ترقیاتی پیکیج دیا ہے معلوم نہیں یہ رقم کراچی کو ملتی بھی ہے کہ نہیں، پہلے پانچ ارب کہاں گئے جن کا اعلان ہوا تھا ۔ اگر یہ رقم مل بھی جاتی ہے تب بھی ہمارا دعوی ہے کہ کراچی صحیح نہیں ہو گا ۔ کراچی کسی بھی ترقیاتی پیکیج سے صحیح نہیں ہو سکتا، کراچی کو پہلے بھی بڑے بڑے ترقیاتی پیکیج ملے مگر سب عارضی اور وقتی ثابت ہوئے، شاید لوگ بھول گئے ہوں گے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی کو اربوں روپے کا ترقیاتی پیکیج دیا تھا۔ جس سے شہر کا سیوریج ٹھیک ہوا، پانی کا انفراسٹرکچر ڈالا گیا، کراچی کی تمام بڑی سڑکوں کی تعمیر اور اسپتال قائم ہوئے۔

ضیاء الحق کا ترقیاتی پیکیج، وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا 29 ارب کا ترقیاتی پیکیج، پرویزمشرف کا 30 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج، نوازشریف کا ترقیاتی پیکیج، بلاول بھٹو زرداری کا 14 ارب کا ترقیاتی پیکیج جاری ہے جو اب 20 ارب تک پہنچنے کو ہے مگر کراچی پھر بھی آئی سی یو میں ہے۔ کیوں؟ ۔ اس کیوں کا جواب ہے کسی کے پاس ؟۔ تو میں خود ہی دے دیتا ہوں، شہر یا ملک ترقیاتی پیکیج سے ترقی نہیں کرتے ۔

ترقی جاری رہنے کا عمل ہے۔ اس کو جاری ہی رہنا ہوتا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ آج بھاری رقم خرچ کر کے دس سال کے لئے بھول جائیں ۔ ترقی کا سفر جاری رکھنے کے لئے نظام بنانا پڑتا ہے جو آج کی دنیا کا آزمودہ ہے۔ وہ تیسرے درجے کی حکومت، کراچی کے مقابلے میں دنیا بھر میں جو شہر ہیں ان کا نظام یہاں نافذ کر لیں، کسی اضافی پیسے یا پیکیج کی کراچی کو ضرورت نہیں ۔

کراچی کو پیسے نہیں نظام چاہئے ۔ گڈ گورنس، مضبوط اور خود مختار و خود کار بلدیاتی نظام، لوکل حکومت کو مضبوط کریں، اختیار، اقتدار اور وسائل مقامی افراد کے حوالے کریں۔ کراچی کے عوام پر اعتماد کریں یہ اس ملک، اس صوبے اور اس شہر کی ترقی میں خلوص دل سے کام بھی کریں گے اور نتائج بھی دیں گے ۔ کراچی ان مسائل سے باہر آ جائے گا اور صوبے کا مطالبہ بھی ختم ۔ وقتی پیکیج کراچی کے مسائل کا حل نہیں ۔

دار الحکومت کو دار الخراب سے نکالیں اور دار کشوں کے کردار کو چھوڑ دیں، یہی پاکستان کے لئے، سندھ اور کراچی کے لیے اور جمہوریت کے لیے بہتر ہے ۔ پھر شکایت نہ ہو کہ کراچی کے عوام آمروں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

Comments are closed.