سانت روک کے پاکستانیوں کا گوروں سے مختصر تعارف

تحریر: عمیر ڈار

سانت روک کو بادالونا میں پاکستانی کمیونٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور معاشی اور سماجی لحاظ سے اس محلے کا شمار بادالونا بلکہ کاتالونیا کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ہوتا ہے۔

 2000 کی اوپن امیگریشن کے بعد اس محلے میں پاکستانی اور دیگر تارکینِ وطن کمیونیٹیز کی آمد سے یہ محلہ تھوڑا بہتر تو ہوا ہے مگر اس کے مسائل ابھی تک جوں کے توں موجود ہیں۔

ہماری تنظیم، Òmnium cultural, جو کہ کاتالان سول سوسائٹی کی سب سے بڑی تنظیم ہے کی جانب سے ان محلوں کی حقیقتوں سے جنرل کاتالان پبلک کو آگاہ کرنے کے لیے ٹور آرگنائز کیے جاتے ہیں جس میں مسائل کے ساتھ ساتھ ان محلوں میں بسنے والی اقوام اور انکی جدوجہد سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

اس ٹور میں میری ڈیوٹی، بطور اس علاقے کے شہری، پاکستانی کمیونٹی کا تعارف تھا۔

میں نے ہسپتال اور سکول کی کنسٹریکشن میں کام کرنے والے مزدوروں، معاشی اور رہائشی مشکلات کی فیملیز اور سپرمارکیٹس میں ڈیوٹی دینے والے بغیر کاغذات کے ورکرز کے بارے میں مختصراً بتایا۔

ابھی میری بات جاری تھی تو ٹیکسی سیکٹر کے برادر عاصم گوندل بھی ہمارے اس ٹور میں شامل ہو گئے تو میں نے انکا تعارف کروایا اور بتایا کہ کس طرح ٹیکسی سیکٹر نے کووڈ کے دوران میڈیکل اسٹاف کو فری سروسز فراہم کی۔

 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سانت روک کی تمام تنظیمات، سکولوں کی جانب سے پاکستانی کمیونٹی کی تعریف کی گئی اور انکی محلے کی سماجی ترقی میں کردار کو سراہا گیا اور میں آنکھیں نیچی کرکے عاجزی کے ساتھ تعریفیں سن کر دل ہی دل میں خوش ہوتا رہا۔

Comments are closed.