غلامی آج بھی موجود ہے

تحریر: حارث قدیر

انگریزوں کے سہولت کار ڈوگرے جنہیں جموں کشمیر کی حکمرانی دی گئی۔ دس فروری1846 کو دریائے ستلج کے کنارے گاؤں سوبارون میں ہونیوالی سکھ انگریز جنگ میں گلاب سنگھ نے سکھ حکمرانوں سے غداری کی اور اسکی دھوکہ دہی اور غداری کی وجہ سے سکھوں کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست ہوئی. ان خدمات کے عوض گلاب سنگھ کو 75 لاکھ نانک شاہی(سکہ رائج الوقت) کی علامتی رقم کے بدلے میں جموں کشمیر کی حکمرانی سونپی گئی.

گلاب سنگھ 1809 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج میں بطور رسالے دار سپاہی بھرتی ہوا، ایک بہادر فوجی ہونے کی وجہ سے اسنے ملتان محاصرے کے دوران جو جراتمندانہ کردار ادا کیا، اسکے عوض رنجیت سنگھ نے جموں جاگیر گلاب سنگھ کے حوالے کر دی. جون 1839ء میں ہی گلاب سنگھ نے انگریزوں کے ساتھ مذاکرات شروع کر دئیے تھے، انگریز سکھ سلطنت میں کسی ایجنٹ کے متلاشی تھے اور انکی یہ خواہش گلاب سنگھ کی صورت پوری ہوئی۔.

لارڈ ہارڈنگ معاہدہ امرتسر کا منصوبہ ساز تھا اور اسی نے جموں کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا. لارڈ ہارڈنگ کے فیصلے کو خود برطانوی افسروں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔.

چارلس نیپئیر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ” کتنے اعلی شخص کو بادشاہ بنایا گیا ہے، ایک ایسا شخص جو ذلت اور غداری کی غلیظ ترین گہرائیوں سے اٹھ کر اعلی نسل کا شخص بن گیا، اس نے اپنا غلاظت سے بھرا ہوا سر اوپر اٹھایا اور برطانیہ نے اس پر تاج سجا دیا. وہ ایک قابل نفرت اور حقارت آمیز ولن ہے جو کشمیری عوام کے گلے کاٹتا رہا ہے۔ “

ہربرٹ ایڈورڈز نے کہا تھا کہ” وہ ایک گدھ کی طرح مکار ہے، وہ دور کھلے آسمان میں انتہائی ہوشیاری سے شیر اور چیتے کی لڑائی دیکھتا رہا، جو ایک ہرن پر آپس میں لڑ رہے تھے، جب دونوں لڑتے لڑتے مر گئے تو اس نے اپنے پر پھیلائے، بڑے تحمل سے اڑتا ہوا نیچے آیا اور ہرن کے گوشت پر عیاشی کرنے لگا. “

گورنر جنرل ہنری ہارڈنگ نے خود بھی یہ اعتراف کہا کہ گلاب سنگھ:” ایشیا کا سب سے بڑا بدمعاش تھا “

ایک کشمیری وکیل نے اس وقت کہا تھا کہ” ہم سب کو تین روپے فی کس کے حساب سے ایسے شخص کے ہاتھوں فروخت کیا گیا جو خود تین روپے میں فوجی رسالے دار سپاہی بھرتی ہوا تھا اور چالاکیوں، چالبازیوں اور وحشی پن کی وجہ سے انگریزوں کا قابل اعتماد ایجنٹ بننے کے مقام تک پہنچا”

برطانیہ کے لئے یہ اچھا سودا تھا، دو بڑی سلطنتوں کے درمیان کشمیر کی ریاست میں انکے پاس ایک وفادار ایجنٹ موجود تھا. جہاں کہیں بھی برطانیہ کو افرادی قوت یا پیسے کی ضرورت پیش آئی گلاب سنگھ ہمیشہ پیش پیش رہا

جموں کشمیر کا تحفہ قبول کر لینے کے بعد گلاب سنگھ نے اپنے آپ کو زرخرید غلام گردانا، یہ ایک موزوں اظہار تھا۔ جموں کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان پر قبضے کو برقرار رکھنے اور انگریزوں کی وفاداری کی قیمت وصول کرنے کےلئے گلاب سنگھ نے جموں کشمیر کے باشندوں کو اپنے زرخرید غلاموں سے بدتر مظالم کا شکار بنایا۔

جبری طور پر ایک جاگیردار مہاراجہ سلطنت میں جوڑے گئے خطے میں بسنے والی قومیتوں اور محکوم عوام کے مقدر میں آج بھی غلامی ہی ہے، آج تک اس جبر سے آزادی کی جدوجہد بھی جاری ہے. اس انسانی المیے سے نجات ماضی میں جبر اور وحشت کی کسی علامت کے احیاء اور بحالی میں ممکن نہیں، نہ ہی موجودہ سرمایہ دارانہ بنیادوں پر اس خطے کی تمام قومیتوں کو جوڑ کر کوئی قومی ریاست تشکیل دی جا سکتی ہے۔

اس خطے کی محکومی سے نجات کا واحد راستہ مختلف قومیتوں میں تقسیم مشترکہ جبر و غلامی کا شکار اس خطے کے محنت کشوں کی طبقاتی جڑت کو یقینی بناتے ہوئے اس خطے سے سامراجی جبر اور غلامی کے خلاف جدوجہد کو منظم کیا جا سکتا ہے، اس خطے میں سوشلسٹ انقلاب کی فتح مندی کے ذریعے ہی ان مختلف قومیتوں کی آزادانہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن میں جوڑا جا سکتا ہے، اس جدوجہد میں برصغیر بھر کے محنت کش طبقے اور بالعموم دنیا بھر کے محنت کشوں کی حمایت ناگزیر ہے، برصغیر سے سرمایہ داری کو شکست دیکر ہی اس خطے کے محنت کشوں کا مقدر بدلہ جا سکتا ہے۔

Comments are closed.