افغانستان میں طالبان کی فتح اور پاکستان کے لیے چیلنجز

تحریر: عمران اعظم سینئر صحافی اسلام آباد

افغانستان میں طالبان کابل کے دروازے تک پہنچ چکے ہیں اور اب افغانستان کا مسقبل ایک بار پھر بے یقینی کی صورت حال سے دوچار ہے۔طالبان کی فتح کو لیکر کئی پہلو ہیں جن پر سیر حاصل گفتگو کی جانی چاہیے ؟کیونکہ پاکستان کے لیے اس تبدیلی کے اثرات کو روکنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

کوئی شک نہیں کہ طالبان کی عدم موجودگی میں افغان سر زمین مسلسل پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی،راء اور این ڈی ایس کا گٹھ جوڑ بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہستگری کا سبب رہا،پکتیکا اور کنٹر سمیت افغانستان کے کئی صوبے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا مرکز رہے تو کابل براہ راست ان کی سر پرستی کرتا رہا،لیکن کیا طالبان کے افغانستان میں برسر اقتدار آنے سے پاکستان کے لیے سب اچھا ہو جائے گا،جو ایسا سوچتے ہیں یہ ہر گز درست نہیں۔

میری نظر میں پاکستان کو اب اندرونی اور بیرونی محاذوں پر بڑے نئے چیلنجز کا سامنے کرنا پڑے گا،پاکستان کے مقتدر حلقے انہی مسائل کو ذہین میں رکھتے ہوئے یہ زور دیتے رہے ہیں کہ امریکہ کے افغانستان سے جانے سے پہلے اس تنازعے کا کوئی سیاسی حل نکلنا چاہیے تاکہ طالبان اور افغان حکومت سمیت سب فریقین کے لیے ،جیت،کا تاثر سامنے آئے اور کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر طاقت کا مرکز نہ بنے۔

ریاست پاکستان نے بہت قربانیوں کے بعد ،طالبنائزیشن سے بڑی حد تک جان چھڑائی ہے،طالبان کی اس فتح کو مذہبی حلقوں کیساتھ جس طرح ہمارے لبرلز گلوریفائی کر رہے ہیں یہ سب سے خطرناک رحجان ہے۔

آج سے چند ہی سال پہلے جب یہ خبر آئی تھی کہ طالبان اسلام آباد سے چند کلو میٹر کی دوری پر ہیں تو پورا ملک سکتے میں آگیا تھا لیکن آج جب طالبان کابل میں داخل ہو رہے ہیں تو شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔

طالبان کی فتح پاکستان کے گلی کوچوں میں طالبان کے ہمدردوں اور ماضی میں جہادی تنظیموں سے جڑے رہنے والے افراد کو ایک نئی تحریک دے گی،یہ لوگ جو بندوق چھوڑ کر اپنے کام کاج میں لگ چکے تھے،وہ دبی چنگاری پھر سے شعلہ بنتے دیر نہیں لگے گی ۔

پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج عام افغان عوام کا اعتماد حاصل کرنا اور ان کے دل جیتنا بھی ہے،دہائیوں سے پاکستان میں رہنے کے باوجود اور بالخصوص افغانستان میں اور بیرون ملک بسنے والے افغان باشندے آج بھی اپنے مسائل اور خانہ جنگی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔افغان عوام ایک آزادانہ ماحول میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں،انہیں اعتماد دینا ہو گا کہ ان کے مسائل کا ذمہ دار پاکستان ہر گز نہیں،بلکہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کو ہوگا۔پاکستان کو چین، روس اور ایران کیساتھ مل کر طالبان کی نئی افغان حکومت کو سمجھانا ہوگا کہ وہ ماضی کی غلطیاں ہرگز نہ دہرائیں اور اقوام عالم کے لیے خود کو قابل قبول بنائیں، اسی میں ان کے ملک اور افغان عوام کی بقاء ہے۔

تیسری بڑی مشکل ،پاکستان پر بے پناہ عالمی دباو آئے گا،اگر عالمی طاقتوں کی موجودگی میں افغان تنازعے کا کوئی تصفیہ ہو جاتا تو پاکستان اس سے بچ سکتا تھا۔اب امریکہ سمیت پاکستان مخالف طاقتیں افغانستان کے مسائل کا تمام تر ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرائیں گی اور افغانستان کی تعمیر نو میں حصہ ڈالنے کے بجائے اسے پراکسی وار کا اکھاڑہ بنا دیں گی جس کے اثرات سے پاکستان بچ نہیں سکے گا۔

امریکہ اور بھارت پہلے ہی سی پیک کو کسی بھی قیمت پر ناکام بنانا چاہتے ہیں،ایف اے ٹی ایف کی تلوار ہمارے سر پر لٹک رہی ہے،ایسے میں امریکہ کی جانب سے ہمارے لیے مزید معاشی مشکلات پیدا کی جائیں گی اور اب کی بار سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی ہماری مدد کو آنے والے نہیں۔

یوں،پاکستان ایک بار پھر دو دھاری تلوار پر چل رہا ہے،ایسے میں ملک کے اندر سیاسی اتفاق رائے پہلے سے کئی زیادہ ضروری ہو چکا ہے،حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ حالات کا ادراک کرے اور سیاسی اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے ملک کے عسکری اداروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے تاکہ وہ پوری یکسوئی کیساتھ اس چیلنج سے نمبرد آزما ہو سکیں۔

بے شمار اعتراضات کے باوجود ہمیں یہ ماننا ہو گا ایک مضبوط فوج ہی پاکستان کی بقاء کی ضامن ہے،جس طرح چند دونوں میں جدید اسلحہ سے لیس افغان فوج نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال کر بھاگنے میں عافیت جانی،یہ ہماری آنکھین کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔

Comments are closed.