جناب وزیراعظم۔۔۔عام پاکستانی کی داستاں بھی سنیں۔۔۔ابھی وقت باقی ہے

عام آدمی مغل بارسلونا

تحریر عام آدمی مغل
جناب عمران خان صاحب آپ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہیں۔۔۔۔ کچھ عرض کرنا چاہتاہوں۔میں ایک عام آدمی ہوں ایک عام سا شہری آپ نے تعلیم اور صحت پر بہت زور دیا اور دے بھی رہے ہیں۔آپ کا ایجنڈا بھی یہی تھا اور وعدہ
تو میں آپ کو یاد دلاتا ہو ۔اس وقت ہم دُنیا میں پانچویں نمبر پر آگے ہے آپ اپنی اکثر تقاریر میں کہتے ہے اللہ کا فضل ہے ہماری پاکستان قوم اس وقت ایک نوجوان نسل ہے جو بہت کم دُنیا کے ممالک میں ہیں۔کیا آپ کے علم میں ہے ہم کس چیز پر پانچویں نمبر ہے وہ ہے ایک خاموش اور مہنگی ترین موت
جی ہاں اُس کا نام ہے۔۔۔کینسر

کینسر میں ہم ان دنیا کے ممالک میں پانچویں پوزیشن حاصل کی نہائیت لاپرواہی اور بیوقوفوں کی طرح
کینسر بہت تیزی سے ہماری نسل تباہ کر رہا ہے بہت روپ و رنگ میں کبھی گلہ کا تو کبھی ہڈیوں کا تو کبھی جگر کا تو کبھی خون کا۔۔۔یہ ایک ایسا مہنگا ترین مرض ہے جو نہائیت چُپکے سے انسان کو جکڑ لیتا ہے پتہ ہی نہیں چلنے دیتا جب ہر طرف غلبہ کر لیتا ہے تو پھر پتہ چلتا ہے جی کینسر صاحب آپ پر قبضہ کر چُکے ہے مکمل طور پر پھر ہر طرف بھاگ دوڑ پہلے جو پرائیوٹ ہسپتال ہے وہاں چیک اپ ٹیسٹ دو لاکھ گیا ہسپتال بدلا تو پھر ٹیسٹ پھر تین لاکھ گیا ہر پندرہ روز بعد کیمو تھراپی ہوتی ہے جس کا بس پینسٹھ ہزار خرچ ہے اور مریض کو لے کر آنے جانے کے لیے علیحدہ گاڑی کا بندوبست اور ادویات کی قیمت علیحدہ۔۔۔

شائد آپ کو بھی پتہ ہو پاکستان واحد مُلک ہے جہاں علاج کے لیے ہر ہسپتال چاہے پرائیوٹ ہو یا گورنمنٹ کا وہاں اپنا ٹیسٹ کرتے ہے دوسرے ڈاکٹر کی رپورٹ پر یقین نہیں رکھتے شائد مال بنانے کے لیے ایک عام مڈل کلاس گھرانہ پر اگر یہ آفت آتی ہے تو سب سے پہلے مکان بکتے ہے اس لیے جو جمع شُدہ پونجی ہوتی ہے وہ تو چھوٹے ہسپتال والے شروع سے ہی لے کر ہضم کر چُکے ہوتے ہے پھر قرض پھر آپس میں جھگڑے کہاں سے علاج کروائیں اور گھر داری بھی کسی چیز کا نام ہے محترم وزیرآعظم آپ تو اس کیفیت سے گُزر چُکے ہیں جب تک انسان شوکت خانم تک پہنچتا ہیں تب تک وہ اپنی اِنکم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے شائید آپ کو بھی پتہ ہو سسٹم کا پاکستان میں ڈاکٹر ایک بیوپاری ہے۔

قصائی کے روپ میں جس کو مریض سے نہیں اُس کی جیب سے پیار ہوتا ہے
جہاں مریض فرش پر تڑپ تڑپ کر مرتے ہے اور ڈاکٹر نرسوں پر مرتے ہے۔پھر شوکت خانم تک کسی طریقہ سے پہنچ ہی جاتے ہے تو پھر وہی روٹین چیک اپ اور ٹیسٹ پانچ لاکھ گھر گروی رکھ دیا علاج شروع اُمید کی کرن نظر آتی ہے
پھر کچھ مہینوں بعد پتہ چلتا ہے یہ تو جگر کا کینسر ہے اور بے قابو ہو گیا معذرت آپ اگر پہلے رجوع کرتے تو شائید کچھ ہو جاتا پھر اُمید ٹوٹ جاتی ہے کون اپنے سامنے اپنے ماں باپ بہن بھای کو مرتا ہوا دیکھ سکتا ہے پھر ڈاکٹر ہی کہتے ہے اگر آپ چاہے تو ان کو انڈیا لے جائیں وہاں جگر متبادل لگا دیتے ہے۔زیادہ نہیں ایک کروڑ ڈیڑہ کروڑ لگے گا یا ایران یا دوبئی اگر کہے تو ہم اس کام میں آپ کی مدد کر دے گے سوچیں ایک عام شہری جو مُشکل سے گھر چلاتا ہے وہ کیا کریں گا مستقل روزگار بھی نا ہو
اُس پر تو قیامت کا منظر اور رشتے داروں کی طعنہ زنی کیا کریں کہاں جائیں۔

اس مشکل میں سوچیں یہ مرض پاکستان میں اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے وجہ کیا کوئ ہنگامی اقدام کیے اس پر بلکل نہیں یہ آپ کا قصور نہیں پچھلی حکومتوں کی نااہلی ہے حالانکہ خادم اعلی بھی اسی مرض کا شکار ہے وہ تو خیر لندن دُنیا کے مہنگے ترین ہسپتال سے علاج کروا لے گے
ہم عام شہری کیا کریں
یہ مرض کی ابتدا کہاں سے ہے
کیا فارم کی مُرغیاں
کیاڈسپنسر جن کی ایک وقت کی خوراک پانچ گولی اور ایک عدد ٹیکہ چاہے چھینک نا مسئلہ ہو
یا ملاوٹ والی چیزیں
یا گندگی یا اصل بات پانی ہے
یا جعلی ادویات جو کیلو کے حساب سے ملتی ہے
یا نیند کی گولیاں
یا پھر ڈاکٹرز کی کوتاہیاں
یا پھر وہ انجیکشن جو گائیں بھینس کو لگائیں جاتے ہے دودہ زیادہ ہونے کی وجہ کے لیے

کچھ نا کچھ تو گڑ بڑ ہے سسٹم میں
ہم آپ سے ہاتھ جوڑ کر ایک گُزارش کرتیں ہے آپ کو جو دُنیا میں سب سے پیارا ہے آپ کو مدینہ کی ریاست کا واسطہ ہے اس طرف ہنگامی اقدام کریں پرائیویٹ ہسپتال لیبارٹری ان سے عام لوگوں کی جان کو چھٹکارا دلواۓ اس کاروبار کو رُوکے اور اس مرض پر دھیان دے یقین کریں یہ اسی نئے سال کے آختتام تک پاکستان دُنیا میں تیسرے نمبر پر آ جائیں گا۔۔۔۔خُدارا کوئی جلد از جلد اقدام کریں
اور ہمیں آپ سب حکمران طبقہ سے بہت اُمیدیں ہے کے آپ
کینسر کے خلاف جلد از جلد جنگ کا اعلان کریں گے اور ہر عام شہری کی رسائ آسانی سے ہو
پاکستان میں بھی جگر گلہ ہڈیوں کے کینسر کا مکمل علاج دستیاب ہو
ہم روز روز اپنے بہن بھائ ماں باپ اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتے

رویا تھا کون کون مجھے کچھ خبر نہیں
میں اس گھڑی وطن سے کئی میل دور تھا

Comments are closed.