پاکستان کے ایشیا پیسفک کمیٹی کے وفد سے مذاکرات، موثر قانون سازی پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کےلیے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے اور اس سلسلے میں ایشیا پیسفک کمیٹی کے وفد سے مذاکرات بعد قانون سازی کو جدید بنانے کے لیے طریقہ کار طے کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔۔۔

ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور اقدامات پر کام  کا آغا ہوگیا ہے اور پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق قوانین مذید سخت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایف آئی اے ایکٹ 1974 اور اسٹیٹ بینک ایکٹ1947 میں ترامیم کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں بھی ترمیم کی جائے گی۔

منی لانڈرنگ کرنے والے کی جائیداد تین کے بجائے 6 ماہ تک ضبط کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق قوانین پرعملدرآمد کیلئے ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹاسک فورس سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں بنائی جائے گی۔  ٹاسک فورس کے دفاتر ملک کے تمام ایئرپورٹس پر قائم کئے جائیں گے۔

وفاقی اور صوبائی سطح پر بھی اینٹی منی لانڈرنگ ٹاسک فورس کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کریں گی۔  یہ ٹاسک فورس کرنسی، سونا، چاندی اوردیگر اشیاء کی بیرون ملک سمگلنگ کی سزا میں اضافے کی تجویزکرے گی۔ ذرائع کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ٹاسک فورس بین الاقوامی این جی اوز کی ٹرانزیکشن کی مانیٹرنگ کرے  گی۔

Comments are closed.