پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تیزی کے رجحان کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اور ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 1719.20 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 154,384.92 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو گزشتہ کاروباری سیشن کے 152,665.72 پوائنٹس کے مقابلے میں 0.7 فیصد اضافہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انڈیکس نے ایک لاکھ 54 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کی ہے۔
گزشتہ کاروباری دن اور مثبت رجحان کی وجوہات
گزشتہ روز کاروبار مثبت زون میں ختم ہوا تھا جب انڈیکس میں 463 پوائنٹس کی کمی کے بعد یہ 152,665 پوائنٹس پر بند ہوا۔ موجودہ تیزی حکومت کے بجلی کے شعبے کے گردشی قرضوں کے مسئلے کے حل کے عزم، روپے کی قدر میں استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے نتیجے میں سامنے آئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 29 اگست 2025 تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 41.7 ملین ڈالر (0.21 فیصد) اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ذخائر 19.65 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس میں 28.2 ملین ڈالر کا اضافہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14.3 ارب ڈالر ہو گئے۔ دوسری جانب کمرشل بینکوں کے ذخائر میں بھی 13.5 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا جس سے مجموعی مالی پوزیشن بہتر ہوئی۔
معاشی استحکام کی سمت اشارہ
اگرچہ یہ اضافہ بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ درآمدات کی ادائیگیوں اور بیرونی قرضوں کے انتظام میں ملک کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے۔ فی الوقت اسٹیٹ بینک کے ذخائر 10.66 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 9 ارب ڈالر ہیں۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹ کا نیا ریکارڈ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی مالی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے اقدامات کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
Comments are closed.