طالبات کو ہراساں کرنے پر کالج پروفیسر نوکری سے فارغ

اسلام آباد: محتسب برائے انسداد ہراسیت نے طالبات کو ہراساں کرنے میں ملوث بحریہ کالج کے پروفیسر کو نوکری سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

انسداد ہراسیت محتسب میں بحریہ کالج کی طالبہ عمیمہ فاطمہ نے 31  مئی کو درخواست دائرکی تھی جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ 28 مئی کو بیالوجی پریکٹیکل کے دوران پروفیسرسعادت نے طالبات کو ہراساں کیا تھا، اس الزام کی 20 سے زائد طالبات اور 3 طلبہ نے بھی تصدیق کی ہے۔

طالبہ کی درخواست پر انسدادِ ہراسیت محتسب کشمالہ طارق کی جانب سے تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بحریہ کالج میں طالبات کا بیالوجی کا پریکٹیکل دوبارہ لیا جائے اور طالبات کو ہراساں کرنے میں ملوث پروفیسر کو فوری برطرف کیا جائے اور الزام ثابت ہونے پر مجرم کو 2 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی  ادا کرنا ہوگا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ صبوحی حسین کو تادیبی لیٹرجاری کیا جائے، آئی جی اسلام آباد قانونی کارروائی کے لئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں۔ وفاقی نظامت تعلیمات متاثرہ طالبات کی نفسیاتی کونسلنگ کے لئے انتظامات کرے اور اداروں میں انسدادحراسیت قوانین سے آگاہی یقینی بنائے جب کہ شہر بھر کے تعلیمی اداروں میں ہراساں کرنے کے واقعات کی رپورٹ جمع کرائی جائے۔

Comments are closed.