فیض احمد فیض کے یوم وفات پر اکادمی ادبیات میں تقریب کا انعقاد

ہم تیرے عشق میں چلتے ہیں ترے رستے پر

 چوم لیتے ہیں جہاں نقش قدم دیکھتے ہیں۔

نامور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کے یوم وفات پر ان کی یاد میں اکادمی ادبیات اسلام آباد نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جہاں فیض کے فکر وفن پر اہل قلم نے اظہار خیال کیا۔

جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا

نامور شاعر فیض احمد فیض نے اپنی شاعری کے ذریعے اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی بالادستی کو چیلینج کیا۔ فیض کی شاعری میں جہاں اشتراکیت نظر آتی وہیں ان کی اسلام سے محبت کی جھلک بھی ملتی ہے، فیض نے اپنی مزاحمتی شاعری کے لیے قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

اکادمی ادبیات میں تقریب کے شرکاء نے فیض احمد فیض کو نظم اور نثر دونوں صورتوں میں خراج تحسین پیش کیا۔ شعراء نے فیض احمد فیض کی زمین میں شعر کہے۔ محقق ڈاکٹر روش ندیم نے کہا کہ فیض اشتراکی انقلاب سے متاثر تھے لیکن فیض اور اقبال کے خواب اپنے اہداف میں ایک تھے۔

کیا ہوئے وہ چراغ صورت لوگ ۔۔۔۔۔ گھر ہے ماتم سرا بنا ہوا ہے

شام فرقت گزر بھی جائے تو۔۔۔۔۔ اک دیا تھا وہی بجھا ہوا ہے

Comments are closed.