لاہور: نامور ادیب بشریٰ رحمٰن انتقال 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ تھیں۔ بشری ٰ رحمان نے 17 سے زائد ناول اور سفرنامے لکھے۔
ان کی مشہور تصانیف میں اللہ میاں جی، بہشت ، بت شکن، چپ، براہ راست ، پشیمان، پیاسی،چارہ گر،خوبصورت، چاند سے نہ کھیلو، ایک آوارہ کی خاطرعشق عشق اور قلم کہانیاں شامل ہیں۔
مولانا ابو الکلام آزاد، ایک مطالعہ،لازوال،دانا رسوئی۔ صندل میں سانسیں چلتی ہیں،بے ساختہ، کس موڑ پر ملے ہو، شرمیلے،لالہ صحرائی اور تیرے سنگ در کی تلاش تھی ، بھی ان کے قلم کے شاہکار ہیں۔ اعلی ٰ علمی اور ادبی خدمات پر انہیں 2007ء میں ستارہ ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
بشریٰ رحمٰن اگست 1944ء میں بہاولپور میں پیدا ہوئیں۔انھوں نے جامعہ پنجاب سے ایم -اے صحافت کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے اپنا سیاسی سفر 1983 میں شروع کیا اور 1985 اور 1988 میں صوبائی اسمبلی پنجاب کی رکن منتخب ہوئیں۔
Comments are closed.