تھرمیں گڈڑو اسکول کے سینکڑوں بچے 10 سال سے اساتذہ کے منتظر

کراچی: سائيں سرکار کی سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی کی انوکھی مثال سامنے آئی ہے۔ گڈڑو کے پرائمری اسکول میں گذشتہ 10 سال سے اساتذہ مقرر ہی نہیں کیے جارہے۔ بچوں اور والدین  کی جانب سے حکومتی رویے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ مسلسل غيرفعال رہنے سے اسکول کی عمارت اور فرنیچر بھی تباہ ہو رہاہے۔

تھر کی تحصیل ڈاھلی کا علاقہ گڈڑو میں ابھی تک سائيں سرکار کی تعلیمی ایمرجنسی نہیں پہنچی ہے، دس سال سے گاؤں  کے  پرائمری اسکول میں استاد تعینات نہیں، جس کے باعث تین سو زائد سے غریب بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔

حکومتی رویئے کے خلاف بچوں اور ان کے والدین نے احتجاج کیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہمارے گاؤں سے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے، دس سال کے عرصے میں تعلیم انتظامیہ تھرپار کرنے اسکول کی حالت کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔

گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہےکہ کہیں باراحتجاج کیا مگر آج تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے، مسلسل غيرفعال رہنے سے اسکول کی عمارت اور فرنیچر بھی تباہ ہونے لگا ہے، علاقہ مکینوں نےاعلیٰ حکام سے اسکول کی حالت زار کا نوٹس لینے اور فوری طور پر ٹیچر تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments are closed.