
اسلام آباد: ورلڈ کپ سے پہلےورلڈ کپ کی فیورٹ، ٹیم بھارت ۔۔کیا یہ حقیقت تھی یا فسانہ ؟ سب میڈیا ہائیپ تھی یا اعصابی جنگ جیت کر نفسیاتی برتری حاصل کرنے کا کوئی منصوبہ ؟ بھارت کیساتھ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین ابھی تک یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
تو پھر ایسا کیا ہوا کہ اسٹار کھلاڑیوں پر مشتمل بھارتی ٹیم ورلڈ کپ کے پہلے ہفتے میں ہی ورلڈکپ سے باہر ہو گئی ، بس رسمی کارروائی باقی ہے ۔بھارت جب ورلڈ کپ میں آیا تو ٹیم کی مضبوط بیٹنگ لائن کیساتھ اچھا اسپن اٹیک اور جسپریت بومراکی موجودگی میں مناسب فاسٹ اٹیک اسے خطرناک ٹیم بنا رہا تھا؟ لیکن پاکستان کے خلاف پہلے میچ کے پہلے اوور سے اب تک بھارت کے لیے سب کچھ ڈراونا خواب ثابت ہوا۔
بھارت کو اس ٹورنامنٹ میں ہائی ریٹ کرنے کے لیے جن اسباب کو بطور دلیل پیش کیا جا رہا تھا ان میں بھارت کی سابقہ پرفارمنس،آئی پی ایل کی برینڈنگ، یو اے ای کی کنڈیشنز اور بھارتی ٹیم میں ویرات کوہلی اور روہت شرما کا ہونا تھا جن کا شمارگزشتہ دس سالوں سے دنیائے کرکٹ کے بڑوں ناموں میں ہوتاہے ،روہت شرما کی ٹیم ممبئی انڈین پانچ مرتبہ آئی پی ایل کی چمپئین بھی ہے ۔

یہ تصویر کا صرف ایک رخ تھا ،بھارت نے خود تصویر کا دوسرا رخ دیکھا نہ دنیا نے ۔ بھارت 2014 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل سری لنکا سے فائنل ہارا، 2016 کا سیمی فائنل ویسٹ انڈیز سے ہارا ، 2017 میں پاکستان سے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی فائنل میں شکست ہوئی اور 2019 میں آئی سی سی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے ہار کر باہر ہوا۔ بھارت آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل بھی 2021 میں ہارا۔
ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی بھارتی ٹیم سے بڑی خبریں سامنے آئیں لیکن ہر ایک نے انہیں نظر انداز کر دیا۔بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے خبر آتی ہے کہ ویرات کوہلی 2021 کے ورلڈ کپ کے بعد ٹی ٹونٹی کرکٹ کے کپتان نہیں رہیں گے، کافی عرصے سے سوشل میڈیا اور میڈیا کے حلقوں میں یہ خبریں آرہی تھی کہ کیا ویرات کوہلی کی جگہ لمیٹڈ فارمیٹ میں روہت شرما کو کپتان ہونا چاہیے؟ پھر ایک اور خبر آتی ہے کہ ویرات کوہلی نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو روہت شرما کو نائب کپتان بنانے سے روک دیا کیونکہ وہ کسی اور کو کپتان بنوانا چاہتے ہیں۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کے اعلان کے کچھ روز بعد ہی ویرات کوہلی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بطور کپتان دستبردار ہونے کی تصدیق کی۔ اس کے بعدمہندرا سنگھ دھونی مینٹور بن جاتے ہیں جبکہ روی چندرن ایشون بھی ٹیم کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن وہ ورلڈ کپ میں باہر بیٹھے ہیں۔ ذرائع کاکہناہے کہ ورلڈ کپ سے پہلے ہی بی سی سی آئی میں یہ تاثر زور پکڑ چکاتھا کہ ویرات کوہلی بطور کپتان کسی بڑے ایونٹ میں بھارت کے لیے کامیابی سمیٹ نہیں سکے، اس لیے اب انہیں اب دستبردار ہوجانا چاہیے۔ بھارتی ٹیم کے اندر ویرات اور شرما کی گروپ بندی ، کرکٹ بورڈ کا دباو، دھونی کا ٹیم کے ساتھ جڑنا، ان سب عوامل نے ٹیم انڈیاکا شیرازہ بکھیر دیا اور 11 کھلاڑی اپنا اپنا میچ کھیلتے رہے ، ٹیم کہیں دور تک بھی نظر نہیں آئی ۔ویرات کوہلی کی گراونڈ میں باڈی لینگویچ بالکل مختلف ہے ، اٹیکنگ موڈ میں نظر آنے والے کوہلی اب حسرت کی تصویر بنے نظر آتے ہیں ۔
کوچ روی شاستری اپنی ٹیم کی کارکردگی پر سخت پریشان ہیں، انہیں سمجھ نہیں ا ٓ رہی کہ کیا یہ وہی ٹیم انڈیا ہے جس نے کبھی پریشر کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیا؟دوسری جانب روہت شرما گروپ ناقص کارکردگی کے باوجودریلیکس دکھائی دے رہا ہے ،روہت شرما کا پاکستان کے خلاف پہلی بال پر آؤٹ ہونا دوسرے میچ میں اوپن کے بجائے نمبر تین پر آنا اور نمبر تین پر آکے بھی پہلی بال پر غیر ذمہ دارانہ شارٹ کھیلنا ظاہر ہوتا ہے کہ روہت شرما جلد کوہلی الیون کو واپس نئی دہلی پہنچانا چاہتے ہیں۔
سوریا کمار یادیو کو ایک میچ کھیلا کر دوسرے میں ایشان کیشن کو لے آنا، انجرڈ ہاردیک پانڈیا کا لگاتار دو میچز کھیلانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔یہ تو طے ہے کہ ورلڈکپ کے بعد ویرات کوہلی اب ٹی ٹوئنٹی کے کپتان نہیں رہیں گے، ویرات کوہلی کی تجویز تھی کہ کے ایل راہل کو وائس کپتان بنایا جائے تاکہ مستقبل میں انہیں کپتانی کے فرائض سونپے جائیں لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ شاید ویرات کوہلی ورلڈکپ کے بعد ٹی ٹوینٹی کے لیے خود ہی دستیاب ہی نہ ہوں اور اگر ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی ان کی کارکردگی مایوس کن رہی تو شاید انہیں وہاں سے بھی کپتانی سے ہاتھ دھونا پڑے۔
یہ ساری تبدیلیاں ورلڈکپ کے فوراً بعد ہوں گی ،کوچ روی شاستری کی جگہ انیل کمبلے کو ٹیم کا کوچ بنائے جانے کا امکان ہے جبکہ ساررو گنگولی کی تجویز ہے کہ راہول ڈریوڈ کو ٹیم کا کوچ بنایاجائے، روی شاستری سے پہلے بھی انیل کمبلے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں لیکن ویرات کوہلی کے ساتھ ان تعلقات مثالی نہیں تھے ۔ ٹیم بھارت اس ورلڈ کپ کے بعد کہاں کھڑی ہو گی ،کیا وہ باونس بیک کرے گی یا تنزلی کا یہ سفر مزید لمبا ہوتا جائے گا، اس سوال کو جواب وقت کیساتھ ہی مل سکتاہے۔
Comments are closed.