واشنگٹن: آزاد کشمیر کے سابق وزیراطلاعات سردارعابد حسین عابد نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے جنوبی ایشیاء ساجد تارڑ سے ملاقات کی ہے۔ ممتاز کشمیری راہنما ڈاکٹرغلام نبی فائی اورمعروف بزنس مین سردار ظریف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ملاقات میں سردارعابد حسین عابدنے غاصب بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پرڈھائے جانے مظالم ،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق امریکی صدر کیلئے مفصل یادداشت پیش کی۔
یادداشت میں بھارتی حکومت اور فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مذہبی مقامات کی بے حرمتی ،لاکھوں کشمیریوں کی شہادتوں سمیت دیگر انسانیت سوز مظالم کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی صدر مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی اورنہتے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ بند کروانے میں کردارادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری گزشتہ 71 برسوں سے بھارتی جارحیت اور بے پناہ مظالم کا سامنا کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں لاکھوں کشمیریوں کی شہادتیں ہو چکی ہیں۔ کشمیری اپنا مسلمہ حق اقوام متحدہ کی منظورشدہ قراردادوں کے ذریعے مانگتے ہیں اورمسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ تاہم بھارت نے اپنی فوجی طاقت اورریاستی دہشت گردی کے ذریعے اس مسئلہ کو دبائے رکھا ہے جو بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ امریکہ اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو بھی آزادی کی نعمت مل سکے۔
سردار عابد حسین عابد نے کہاکہ کشمیری ہرسال اقوام متحدہ کے دفتر کے باہرمقبوضہ ریاست جموں وکشمیر پربھارت کے ناجائز تسلط اور بھارتی مسلح افواج کے ذریعے نہتے کشمیریوں پرڈھائے جانے والے انسانیت سوزمظالم کے خلاف پرامن احتجاج اورمظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن ان مظاہروں کا نہ تو اقوام متحدہ اور نہ ہی امریکہ نوٹس لیتا ہے اس سرد مہری کے خلاف اس یاداشت کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں۔
ساجد تارڑنے آزاد کشمیر کے سابق وزیراطلاعات سردارعابد حسین عابد کو یقین دلایا کہ ان کی طرف سے پیش کردہ یاداشت کو وائٹ ہاؤس میں صدرٹرمپ تک نہ صرف پہنچایا جائے گا بلکہ اس حوالے کردار ادا کرنے کے لئے وہ خود بھی اپنا موثر کردار ادا کریں گے۔ سردارعابد حسین عابد نے امریکی صدارتی مشیر برائے جنوبی ایشیاء کی یقین دہانی پر شکریہ ادا کیا ۔
Comments are closed.