جموں، سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں غاصب بھارتی فوج نے جموں کے علاقے سدرا میں مسلمانوں کے درجنوں گھر مسمار کر دیے ہیں۔کارروائی بھارتی جنتا پارٹی کی ایما پر کی گئی جس کا مقصد جموں کے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسند تنظیموں اور رہنمائوں نے نام نہاد بلدیاتی انتخابات سے قبل مقبوضہ وادی میں ظلم و ستم اور گرفتاریوں کی تازہ لہر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی آواز کو دبانے کیلئے انتہائی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔
جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے نظربند چیئرمین یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت نے نام نہاد بلدیاتی انتخابات سے پہلے مقبوضہ علاقے میں حریت رہنمائوں، کارکنوں اورعام کشمیری نوجوانوں کی غیرقانونی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابی ڈراموں کی کوئی اہمیت نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں سکھوں نے بھی نام نہاد پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیری صرف اور صرف اپنے اپنے پیدائشی حق، حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور نام نہاد انتخابی ڈراموں سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی اور چیز ہر گز تسلیم نہیں کریں گے۔
مقبوضہ کشمیر میں ہائیکورٹ نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کی گئیں دو بہنوں کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیدیا ہے۔
Comments are closed.