سری نگر: جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت ظلم و جبر کی تمام حدیں پار کر چکا ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کشمیری طالب علموں کو ہراساں کرنا اسی کی ایک کڑی ہے۔
کشمیر میڈیا سرورس کے مطابق پولیس حراست میں موجود محمد یاسین ملک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طلبہ کی جانب سے تعزیتی ریفرنس منعقد کرنے اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے پر یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ کشمیری بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا جمہوری اقدار کی بیخ کنی ہے۔
انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے طلبہ کو نکالے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقدام اسی ظلم و جبر کا حصہ ہے جو بھارت نام نہاد قومی مفاد کے نام پر عرصہ دراز کشمیریوں خاص طور پر کشمیری طلبہ پر ڈھا رہا ہے۔
محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیر کا ہر شخص کشمیری نوجوان طلبہ کے ساتھ کھڑا ہے اور بھارتی جبر کا ڈٹ مقابلے کریں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ سمیت دیگر ادارے اور عالمی برادری آگے بڑھے اور بھارت کو روکے کیونکہ مودی سرکار خطے میں تشدد اور تباہی کو فروغ دے رہی ہے۔
Comments are closed.