برطانوی پارلیمانی گروپ کی کشمیرپررپورٹ سے بھارتی چہرہ بے نقاب

لندن: صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق برطانوی پارلیمنٹ میں کل جماعتی پارلیمانی گروپ کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ کا خیر مقدم اور گروپ کے چیئرمین اور ممبر پارلیمنٹ کرس لزلی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

صدر سردار مسعود خان نے  ہاؤس آف کامنز میں رپورٹ اجرا کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔  انہوں نے کہا کہ گروپ کے چیئرمین اور برطانیہ میں کشمیری و پاکستانی کمیونٹی اس پیشرفت پر مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے برسہا برس سے کشمیر کے حوالے سے موثر لابنگ کر کے اس اہم رپورٹ کے اجرا کو ممکن بنایا۔

رپورٹ کے اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب جس میں تیس سے زیادہ برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران بھی موجود تھے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت خوشی کا لمحہ ہے کیونکہ برطانیہ کی پارلیمنٹ نے ایک ایسے مسئلہ پر اپنی طویل خاموشی توڑی ہے جس کا تعلق دو کروڑ انسانوں کے مستقبل سے ہے اورجو گزشتہ 71 سال سے اپنے بنیادی حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اس رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ دو کالے قوانین کی منسوخی اور مقبوضہ علاقے میں بے نام اور گمنام قبروں کی موجودگی کی آزادانہ تحقیقات اور بے نام قبروں میں مدفون افراد کی شناخت کے مطالبہ کے علاوہ بھارت کی حکومت سے پیلٹ شاٹ گنوں کے استعمال کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں بھارتی حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اُن جیلوں کو بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لیے کھول دے جہاں سیاسی قیدیوں کو طویل عرصے سے بند رکھا ہوا ہے جبکہ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے ایک جانب سے دوسری جانب سفر کرنے والے تقسیم شدہ کشمیری خاندانوں کو ویزہ اور دوسری سفری سہولتیں مہیا کریں۔

 صدر سردار مسعود خان نے پارلیمانی کشمیر گروپ کی طرف سے رپورٹ میں پیش کی گئی چھ سفارشات کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں پارلیمانی گروپ کی طرف سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے جمع کئے گے شواہد سے دنیا کے سامنے بھارت کو چہرہ بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی اور بھارت کی انسانیت کے خلاف جرائم کی تصویر بھی کھل کر سامنے آ ئے گی۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے مقبوضہ وادی میں نافذ دو کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ جسے کشمیر میں قابض بھارتی فوج ریاست کے عوام پر ظلم و ستم ڈھانے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے کو فی الفور منسوخ کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ قوانین بھارتی فوج کو نہ صرف طاقت کے غیر ضروری استعمال کا اختیار دیتے ہیں بلکہ ان قوانین کے تحت کسی بھی شہری کی جان لی جا سکتی ہے یا اُسے گرفتار کر کے غیر معینہ مدت تک بغیر مقدمہ چلائے بغیر جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں جو شواہد جمع کئے گئے ہیں وہ محض معمولی نوعیت کے ہیں ۔ ابھی مقبوضہ کشمیر میں اصل بھیانک صورتحال دنیا کے سامنے آنی باقی ہے ۔ برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر گروپ کی رپورٹ کی ٹائمنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ جس میں کالے قوانین کی منسوخی اور بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اب کشمیر کے حوالے سے اس رپورٹ سے بین الاقوامی سطح پر دو ر رس اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی آزاد ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اب کشمیر کے حوالے سے نئے شواہد لے کر سامنے آ رہے ہیں ۔ کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی رپورٹ کو ایک جاندار دستاویز قرار دیتے ہوے صدر مسعود خان نے کہا کہ یہ رپورٹ جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے علاوہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی بھیجی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی گروپ کی اس رپورٹ کو برطانیہ کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو مہیا کرنے کے علاوہ برطانوی پارلیمنٹ میں بھی زیربحث لایا جانا چاہیے۔

صدر سردار مسعود خان نے اس موقع پر برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کی توجہ لائن کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے آزاد کشمیر کے شہریوں کو بلا جواز نشانہ بنانے کی طرف بھی دلائی ۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ 2003 کے جنگ بندی کے معاہدے کی پابندی کرے اور ایل او سی پر انسانی جانوں سے کھیلنے کا سلسلہ بند کرے ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس وقت آزاد کشمیر کی حکومت افواج پاکستان کی مدد سے 40 ہزار سے زیادہ مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں اسے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین جیسے کسی بین الاقوامی ادارے کا تعاون بھی حاصل نہیں۔

 صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کے عوام مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں جبکہ بھارت کشمیر کا مسئلہ دہشت اور فوجی طاقت سے حل کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹرین سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کا ایسا سیاسی اور سفارتی حل ڈھونڈنے میں مدد کریں جس میں کشمیریوں کے پیدائشی حق ، حق خود ارادیت کی ضمانت موجود ہو۔ جس کے حصول کے لیے وہ سات دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔

Comments are closed.