بلدیاتی انتخابات مقبوضہ کشمیرکی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کرسکتے،سردارمسعود

مظفرآباد: صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مضحکہ خیزبلدیاتی انتخابات تنازعہ کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔

صدر آزاد کشمیر نے نام نہاد بلدیاتی انتخابات کو جواز بنا کر مزاحمتی قیادت اور سیاسی کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے بھارتی فوج کے آزادی پسند قیادت کیخلاف منظم انداز میں کریک ڈاؤن کی حالیہ لہر پر شدید تحفظات ہیں۔ مقبوضہ وادی کے شہری اور دیہی علاقوں میں تلاشی و محاصرہ آپریشن کے نام پر گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جہاں کے عوام نے اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور شفاف استصواب رائے کے ذریعے کرنا ہے۔ بھارت کی جانب سے کوئی بھی انتخاب کشمیریوں کیلئے استصواب رائے کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

دنیا بھر میں الیکشن عوامی رائے کے ذریعے عوامی نمائندوں کے انتخاب کیلئے ہوتے ہیں لیکن کشمیر میں نام نہاد بلدیاتی الیکشن کشمیریوں کیلئے مزید مسائل اور مشکلات پیدا کرنے کیلئے کرائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ معصوم کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کا نوٹس لیں۔

سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ بھارت مضحکہ خیز بلدیاتی انتخابات کے ذریعے دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال معمول کے مطابق ہے لیکن کشمیری عوام بھارت کے مذموم عزائم کو پورا نہیں ہونے دیں۔

صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ بھارت کا دنیا کو بے وقوف بنانے کا حربہ ناکام ہوگا کیوں کہ کشمیری عوام بھارت کے ڈرامہ بلدیاتی انتخابات میں دلچسپی نہیں لے رہے وہ جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے بھارت کے مکروہ عزائم ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں تمام تر مظالم کے باوجود بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت کے مطالبے سے دستبردار کرانے کی کوششوں میں بری طرح ناکام ہوا اور مستقبل میں بھی ناکامی بھارت کا مقدر بنے گی۔

صدر آزاد کشمیر نے علیل کشمیری خواتین رہنماؤں آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ حریت رہنما یاسین ملک کی گرفتاری قابل مذمت ہے، بھارت مقبوضہ وادی کو پولیس اسٹیٹ بنا رہا ہے۔

Comments are closed.