مقبوضہ کشمیر موت کی وادی میں تبدیل، مزید10 نوجوان شہید

سری نگر: غاصب بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں کشمیر کو موت کی وادی بنا دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران آج ضلع پلوامہ میں10نوجوان شہید کر دیے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے 3نوجوانوں عدنان احمد، بلال احمد اور ظہور احمد کو ضلع کے علاقے کھر پورہ سرنو میں محاصرے اور تلاشی کے دوران شہید کیا۔

نوجوانوں کی شہادت پرلوگوں نے سڑکوں پر آکر زبردست احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ بھارتی فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولیاں، پیلٹ اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ جس کے نتیجے میں مزید7نوجوان شہباز علی، سہیل احمد، لیاقت احمد، مرتضیٰ، عامر احمد پالہ، توصیف احمد میر اور عابد حسین لون شہید جبکہ بیسیوں زخمی ہوگئے۔

آخری اطلاعات تک بھارتی فورسز اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔ قابض انتظامیہ نے لوگوں کوتازہ ترین صورتحال کے بارے میں ایک دوسرے کو معلومات کی فراہمی سے روکنے کیلئے ضلع پلوامہ میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔ انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں ریل سروس بھی معطل کر دی۔

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارتی فوج نے جنت نظیر وادی مقبوضہ کشمیر میں خون کی ندیاں بہادیں۔ کشمیریوں کا اپنے گھروں میں رہنا محال کردیا۔ عالمی برادری کو کشمیریوں کا پانی کی طرح بہتا خون کیوں نظر نہیں آرہا۔ معصوم کشمیریوں کا بہتا خون عالمی برادری کا ضمیر جھنجھوڑ رہا ہے۔

سینئر حریت رہنما الطاف بٹ کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ کشمیری نوجوانوں کے گرتے لاشے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Comments are closed.