برلن: جرمنی میں پاکستانی سفارتخانے میں یوم شہدائے کشمیر کی مناسبت سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا، مقبوضہ وادی میں کئی دہائیوں سے جاری غاصب بھارت کی بربریت کی شدید مذمت اور کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
تقریب میں جرمنی میں مقیم کشمیریوں سمیت پاکستانی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد، جرمن دانشوروں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، پاکستانی سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نے13 جولائی 1931 کو سری نگر سینٹرل جیل کے باہر ڈوگرہ راج کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے والے 22 کشمیری نوجوانوں کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت اور کشمیریوں کی تحریک آزادی میں پیش کی گئی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔
پاکستانی سفیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوم شہدائے کشمیر کے تاریخی پس منظر سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیری عوام 1947 سے پہلے سے ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں، انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ 13 جولائی 1931 کو سری نگر سینٹرل جیل میں قیدکشمیر ی نوجوان عبدالقدیر کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت تھی۔ اس موقع پر ہزاروں کشمیری جیل کے باہر جمع ہوگئے،
شرکاء کو بتایا گیا کہ نماز ظہر کے وقت ایک کشمیری نوجوان نے اذان کی صدا بلند کی تو ڈوگرہ سپاہی نے گولی مارکر اسے شہید کر دیا۔توحید کے پروانوں نے وہیں سے اذان کو آگے بڑھایا، ایک بعد ایک جوان جام شہادت نوش کرتا گیا لیکن اذان گونجتی رہی اور یوں 22کشمیریوں نے اپنی جان دے کر اذان مکمل کی۔کشمیر ی عوام کا ظلم کے خلاف نہ جھکنے کا یہ عہد آج بھی پورے عزم کے ساتھ جاری ہے۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے کئی دہائیوں بعد میں معصوم اور نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا، اور کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام 5 اگست2019 کے بعد اور بالخصوص کورونا وباء کے دوران بھی غیر انسانی اور ظالمانہ پابندیوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ مودی سرکار مقبوضہ علاقے کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کیلئے آئے روز مذموم کوششوں میں مصروف عمل ہے، ان حالات میں عالمی برادری کو آگے بڑھ کر ظالم بھارت کا ہاتھ روکنا ہوگا، انہوں نے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔
پاکستانی سفیر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر میں اپنے کشمیری بھائیوں کی آواز بلند کرتا اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق۔ حق خودارادیت ملنے تک سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے بھارت کے اندر مسلمانوں پر مظالم اور متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ کی بھی مذمت کی۔
Comments are closed.