سیلابی ریلہ کے متاثرین کی مکمل آبادکاری تک چین نہیں بیٹھیں گے، مسعود خان

اٹھمقام (وادی نیلم) : آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ وادی نیلم کی یونین کونسل لیسوا میں سیلابی ریلے سے متاثر ہونے والوں کی مکمل آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

متاثرین کی بحالی اور انہیں ہنگامی بنیاد پر خوراک، رہائش اور  پینے کے پانی کی فراہمی حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ تمام حکومتی اداروں اور پاک فوج نے متاثرین تک پہنچ کر اُنہیں ریلیف فراہم کرنے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

صدر آزاد کشمیر وادی نیلم میں اس واقعہ کی افسوسناک اطلاع ملنے کے بعد راولاکوٹ میں اپنی مصروفیات ترک کر کے ہنگامی طور پر جب لیسوا پہنچے، نے متاثرہ دیہاتوں کے دورے کیے اور متاثرین و اہل علاقہ سے ملاقات کی۔ ڈپٹی کمشنر نیلم محمود شاہد، ایس ایس پی آصف درانی اور پاک فوج کے کمانڈر بریگیڈئر مرتضیٰ نے بریفنگ دی۔

صدر آزاد کشمیر کو بتایا گیا کہ ڈبران کے علاقے سے نکلنے والے لیسوا نالے میں تغیانی سے دومیلاں، کٹھہ، لیسوا خاص، باڑی، بیلا، بانڈی اپر بیلا اور بانڈی لوئر بیلا کے دیہات میں انیس انسانی جانوں کی ضیاع کے علاوہ تین مساجد بھی شہید ہوئیں، اس کے علاوہ 150 مکانات، 10پن ملز  کی تباہی ہوئی ہے۔

سردار مسعود خان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس افسوسناک حادثے میں جان کی بازی ہارنے والوں میں تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے مبلغین کے علاوہ 5 خواتین سمیت 9 مقامی افراد بھی جاں بحق ہوئے جبکہ علاقے میں برقی، مواصلاتی نظام اور پانی کی ترسیل کے نظام کو شدیدطرح نقصان پہنچا، ان دیہات کو  ملانے والی واحد لیسوا بائی پاس سڑک کے کچھ حصے بُری طرح متاثرہوئے۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ 2005ء کے بعد یہ ایک بڑا سانحہ تھا اس کی وجہ سے پوری یونین کونسل میں 10 کلو میٹر کا علاقہ برُی طرح متاثر ہوا۔ انہوں نے جانی و مالی نقصان پر دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقے میں بنیادی انفراسٹرکچر کو بحال کر کے متاثرین کی مستقل آبادکاری حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے،صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  اورپاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی جیسے اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

Comments are closed.