کورونا کی آڑ میں بہیمانہ مظالم سے کشمیر کی صورتحال مزید خراب ہوگئی، مسعود خان

اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو ایک منظم مہم کے تحت قتل کیا جا رہا ہے، بی جے پی اور آر ایس ایس مل کر کورونا وائرس کی وبا کی آڑ میں کشمیری عوام پر مظالم نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مزید مخدوش کردی ہے۔

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق سید فخر امام سے ملاقات کی، اور کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین کی حیثیت سے جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی شانداروکالت کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔

سید فخر امام نے کہا کہ اُن کی وزارت کورونا وبا سے پیدا ہونے ولی صورتحال میں خوراک کی ترسیل میں آزاد کشمیر کے عوام کا خصوصی خیال رکھے گی اور ہماری کوشش ہو گی کہ اس وبا کے دوران آزاد کشمیر میں گندم یا خوراک کی کسی قسم کی قلت پیدا نہ ہو۔

 وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک نے کہا کہ وہ سفارتی کوششوں سے دنیا کی پارلیمانی کمیونٹی پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظالم بند کرانے کی ضرورت پر زور دیتے رہیں گے اور اس اہم قومی فریضہ کی انجام دہی میں کسی قسم کی تساہل یا غفلت نہیں برتی جائے گی۔

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو ایک منظم مہم کے تحت قتل کرنے، لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور نئے ڈومیسائل قوانین نافذ کر کے کشمیریوں کی زمین اور اُن کی ملازمت کے حقوق چھیننے کے اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے۔

 اُنہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف یہ تمام جرائم بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ بھارتیہ جنتا پار ٹی اور راشٹریہ سوام سیوک سنگھ باہم ملی بھگت سے کورونا وائرس کی وبا کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مظالم کا سلسلہ دراز کرنے میں مصروف ہیں اور یہاں تک کہ وبا کا شکار شہریوں کو علاج معالجہ کی ضروری سہولتیں بھی نہیں مہیا کی جا رہی ہیں۔

صدر آزاد کشمیر نے مقبوضہ ریاست میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے وینٹیلیٹرز، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے لیے حفاظتی ساز و سامان، ٹیسٹنگ کی سہولتیں، فیس ماسک اورسنیٹا ئرزر تک دستیاب نہیں جو ہمارے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یہ سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی پولیس کا احمق سربراہ یہ جھوٹا الزام لگا رہا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر سے کورونا کے مریضوں کو مقبوضہ کشمیر میں داخل کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک بیہودہ الزام ہے جس کی کوئی بنیاد یا شواہد نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے قابض حکام ان جھوٹے اور بے بنیاد الزمات کا سہارا لے کر اپنے جرائم چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ کوئی بھی ذی شعور شخص ان الزامات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

Comments are closed.