بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے غیر قانونی،غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات کو 1400دن مکمل ہوچکے ہیں۔ مودی نے صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ایک دن قبل یعنی 4 اگست کو ہی پورے مقبوضہ جموں وکشمیر میں پچھترلاکھ کشمیریوں پر فوجی محاصرہ مسلط کرکے انہیں اپنے ہی گھروں میں محصور کیا تھا۔اس کے علاوہ مزید تین لاکھ بھارتی فوجی اسی بہانے یہاں تعینات کیے گئے ،جس کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد دس لاکھ ہوگئی،کیونکہ یہاں سات لاکھ بھارتی فوجی، نیم فوجی ا ور پولیس اہلکار پہلے سے ہی تعینات تھے۔
گو کہ 5 اگست 2019ء میں غیر قانونی بھارتی اقدامات کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کی تاریخی اور قانونی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قرار دادیں بھی اس دیرنیہ اور طویل حل طلب مسئلے پر موجود ہیں لیکن یہ فرق ضرور پڑا ہے کہ آرٹیکل 370اور35اے کی منسوخی سے متنازعہ خطے کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔سب سے پہلے مقبوضہ جموں وکشمیر کو دو حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا۔اس کے بعد جموں و کشمیر کیلئے ایک لیفٹنینٹ گورنر کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔لداخ کیلئے بھی بعینہ یہی ماڈل اپنایا گیا۔
آرٹیکل 370 اور 35 اے کو بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت حاصل تھی ۔ان دونوں مذکورہ آرٹیکلز کو تقسیم برصغیر کے وقت بھارتی آئین میں شامل کرکے ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ اور اختیارات دیئے گئے۔جس کی رو سے بھارت کو خارجہ،دفاع اور مواصلات تک رسائی دی گئی تھی۔اس تینوں محکمات کے علاوہ ریاست کلی طور پر اپنے فیصلے کرنے میں آزاد تھی۔جس کا بار ہا اظہار اس وقت کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے کیا تھا۔ریاست کی جانب سے اپنا علیحدہ آئین کا بھی مطالبہ کیا گیا۔جس پر سنہ 1951 ء میں ریاستی آئین ساز اسمبلی کی اجازت بھی دی گئی۔ریاست جموں و کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعظم شیخ عبداللہ اور بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی شق 370 پر پانچ ماہ کی مشاورت کے بعد اس سے بھارتی آئین میں باضابطہ شامل کیا گیا تھا۔جس کے بعد ریاست جموں وکشمیر کو ایک خاص مقام حاصل تھا اور بھارتی آئین کی جو دفعات دیگر بھارتی ریاستوں پر نافذ ہوتی ہیں آرٹیکل 370 کے تحت ان کا اطلاق ریاست جموں وکشمیر پر نہیں ہوسکتا تھا۔یہی خصوصی حیثیت مودی اور پوری بی جے پی کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی ۔گوکہ 2009سے 2014 تک مودی اور اس کے دوسرے انتہا پسند خاموش رہے یہاں تک 2018آن پہنچا۔بھارت میں مودی بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ برسر اقتدار آئے۔امیت شاہ کو بھارتی وزارت داخلہ کا قلمدان سونپا گیا ۔دونوں انتہا پسندانہ خیالات میں یکسر نظریات رکھتے ہیں۔سب سے پہلے 5 اگست 2019 میں آرٹیکل 370کو ختم کرکے ریاست کی خصوصی حیثیت ہی منسوخ کی گئی۔یوں ریاست کا حیلہ ہی بگاڑ دیا گیا۔البتہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کی سابق سربراہ مچل باچلیٹ نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان اقدامات سے مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت اور اس پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعدپوری ریاست میں آزادی اظہار،آزادی صحافت اور سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندیاں عائد کرکے یہاں قبرستان جیسی خاموشی مسلط کی گئی۔اگر یہ کہا جائے کہ یہاں آزادی اظہار اور آزادی صحافت کا گلہ گھونٹا گیا تو بیجا نہیں ہوگا۔نہ صرف پوری ازادی پسند قیادت بلکہ انیس ہزار کے قریب کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرکے انہیں اپنے گھروں سے سینکڑوں میل دور بھارتی جیلوں میں پابند سلاسل کیا گیا ۔جن میں کئی صحافی آصف سلطان،فہد شاہ،عرفان معراج اور کامران یوسف بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ انسانی حقوق کے سرکردہ علمبردار خرم پرویز اور محمد احسن اونتو بھی گرفتار کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔گو کہ کشمیری صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی گرفتاریوں کے خلاف عالمی صحافتی تنظیموں، رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز،، پریس کلب آف انڈیا، ایڈیٹریس گلڈ آف انڈیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے شدید رعمل کا اظہار کرکے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے مگر مودی کا بھارت ٹس سے مس نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے کان پر جوں رینگی ہے۔ الٹا ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا چیپئٹر کے دفتر کو ہی سیل کیا گیا۔کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق753کشمیری مردوزن اور بچے 5 اگست سے لیکر آج تک بھارتی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے، 52خواتین بیوہ اور 128 بچے یتیمی سے دوچار ہوئے۔127خواتین کی آبرویزی اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ 2400کشمیریوں پر بدترین تشدد کیا گیا۔1104 رہائشی مکانات اور دوسری جائیداد و املاک تباہ ونذر آتش کی گئی۔

کشمیری عوام کی نجی املاک کو آئے روز ضبط کرکے انہیں بھارتی عملداری میں لیا جاتا ہےجس کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں ہے کہ کشمیری عوام کو خون سے سینچی تحریک آزادی سے دستبردار کرایا جائے مگر اہل کشمیر حالات کے تمام تر جبر اور مشکلات و مصائب کے باوجود تحریک آزادی کشمیر کو نہ صرف جاری وساری رکھے ہوئے ہیں بلکہ اج بھی قربانیوں سے دریغ نہیں کرتے ،جس پر وہ آفرین کے مستحق ہیں۔مودی کا ظلم وجبر بھی اپنی موت آپ مرجائے گا اور اس پہلے ان کے پیشروبھی کشمیری عوام کو فتح کرنے کا پورا زور لگاچکے ہیں وہ فنا کے گھاٹ اتر چکے ہیں اور کشمیری عوام جو بندوق کے بل پر غلام بنائے جاچکے ہیں لیکن ان کے سینوں میں بھارت کے خلاف نفرت کا جو لاوا پک چکا ہے اس میں بھارت اور اس کے حواری بھسم ہوکر رہ جائیں گے۔ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ماورائے عدالت قتل اور تشدد سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کسی خوف وڈر کے بغیر جاری ہیں۔ بی جے پی حکومت نے کشمیری عوام کی آزادی کی آواز کو دبانے کیلئے اپنے جبرمیںتیزی اور شدت لائی ہے۔ مودی کی اندھی طاقت کے استعمال اور دھوکہ دہی کی پالیسیوں سے کشمیری مسلمانوں کی بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کے عزم کو یقینا تقویت ملے گی ۔بھارت اور اس کے حواری اہل کشمیر کا کچھ بگاڑ نہیں سکے ،ہاں البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ اہل کشمیر میں بھارت کے خلاف نفرت اور غم و غصے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
Comments are closed.