مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی سازش کیخلاف وادی میں ہڑتال

سری نگر/ اسلام آباد: بھارتی آئین کی دفعا 35 اے اور370 کی منسوخی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے مذموم منصوبے کیخلاف وادی بھر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہے۔  مقبوضہ وادی میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔

قابض انتظامیہ نے بھارت مخالف مظاہرے روکنے کے لیے سری نگر اور دیگر قصبوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔

 کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکومت نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دفعہ 35 اے اور 370 کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جن کی سماعت بدھ اور جمعرات کی جاری ہے۔  دو روزہ ہڑتال کی کال سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی تحریک نے دی ہے جبکہ جماعت اسلامی، کشمیر سینیٹر فار سوشل اینڈ ڈویلپمنٹ  سٹڈیز اور کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت  دیگر تنظیموں نے ہڑتال کی کال کی حمایت کی ہے۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے سری نگر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام بھارت کی طرف سے عدلیہ کے ذریعے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین میں تبدیلی اور مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کا ڈٹ کا مقابلہ کریں گے۔

سینئر حریت رہنما الطاف بٹ کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، کشمیری عوام بھارت سرکار کی مذموم سازش کا ڈٹ کا مقابلہ کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ گھس بیٹھیے بھارت کو کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، بھارتی سپریم کورٹ کے کسی بھی منفی فیصلے کیخلاف بھرپوراحتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

Comments are closed.