سری نگر: غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی حکام نے محرم الحرام کے جلوسوں کو روکنے کیلئے سرینگر، بارہمولہ ،بڈگام اور دیگر علاقوں میں سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر کے آٹھ تھانوں بٹہ مالو، شہید گنج، کرن نگر، مائسمہ، کوٹھی باغ، شیرگڑی، کرالہ کھڈاور رام منشی باغ کی حددوں میں آنے والے علاقوں میں پابندیا ں انتہائی سخت کر دی گئیں۔ گاڑیوں کی آمد و رفت اور لوگوں کو محرم کے جلوس نکالنے سے روکنے کیلئے سڑکوں پر خار دار تاریں بچھا دی گئیں۔
بٹہ مالو ، ریڈینسی روڑ، ڈلگیٹ، رام منشی باغ اور مائسمہ میں مرکزی شاہرہوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ۔ پابندیوں کی وجہ سے سرینگر کے تجارتی گھڑ لال چوک میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند ہیں۔ شہرمیں بڑی تعداد میں تعینات بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار مسافروں اور راہگیروں کی جامہ تلاشی کے علاوہ انکے شناختی کارڈ چیک کر رہے ہیں۔
قابض فورسز اہلکاروں نے جگہ جگہ نئی چیک پوسٹیں بھی قائم کر لی ہیں۔بارہمولہ، بڈگام اور دیگر علاقوں میں بھی پابندیاں نافذ کر دی ہیں ۔ لوگوں کو گھروں کے اندر مقید رکھنے کیلئے پوری وادی کشمیر میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکارتعینات کر دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ 1990سے قبل 8ویں محرم الحرام کا جلوس سرینگر کے علاقے شہید گنج سے شروع ہو کر مختلف علاقوں سے گزرنے کے بعد امام بارگارہ ڈلگیٹ پر اختتام پذیر ہوا ہے لیکن قابض بھارتی انتظامیہ نے گزشتہ تیس برس سے محرم کے جلوسوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
Comments are closed.