اسلام آباد: برطانوی ہاوس آف لارڈ کے رکن لارڈ نذیر احمد نے کہاہےکہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے حوالے سے دوہزار اٹھارہ گزشتہ دہائی کا بدترین سال تھا مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے پاکستان اور کشمیر میں جامعات میں طلباء کو متحرک کرنا ہوگا۔
حریت رہنما یاسین ملک کی کی اہلیہ مشعل ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لارڈ نذیر نے کہاکہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنادینا کسی بھی حکومت کی بڑی غلطی ہوگی یہ ایک قبل ازوقت اقدام ہے اس میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تربیت کی جائے عالمی برادری کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے ارکان پارلیمنٹ کا مکمل آگاہ ہوناضروری ہے۔
لارڈ نذیر کا کہنا تھاکہ مولانا فضل الرحمن کو دس سال کشمیر کمیٹی کا سربراہ رہنے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا۔ پاکستان اور بھارت میں سیاستدان مسئلہ کشمیر پر سیاست کرتے ہیں، سیاستدانوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے سیاسی مفاد کے لیے کئی دہائیوں سے ایک جیسے بیانات دیئے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشعال ملک بہت سے سیاستدانوں سے بہتر انداز میں تحریک آزادی کشمیر کے لئے کوششیں کر رہی ہیں۔ کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں حریت قائدین سے مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ تازہ ترین صورتحال سے انہیں آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
لارڈ نذیر کا کہنا تھا کہ مشعال ملک مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور تحریک آزادی کیلئے مزید موثر انداز میں کام کر سکتی ہیں۔ یہ پرامن اور سفارتی سطح پر تحریک آزادی کشمیر کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے لارڈ نذیر ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
اس موقع پر مشعال ملک نے کہاکہ ہماری توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ اقوام متحدہ کے مبصرین کو کسی طرح کشمیر کادورہ کرایاجائے ہندوستان اب حواس کھوچکاہے اللہ کرے کہ اگلے سال کشمیریوں کو آزادی نصیب ہو اور کشمیریوں کی مشکلات کم ہوں مشعال ملک نے کہاکہ اگر یہ مسئلہ پرامن نہیں ہوتا تو دوسرا حل ایٹمی جنگ ہے ہندوستان خطے کی معیشت کو ترقی کرنے نہیں دے رہا۔
Comments are closed.