راجا ذوالقرنین شامل،مسلم کانفرنس کے بغیرکوئی حکومت نہیں بناسکتا،سردارعتیق

اسلام آباد:سابق صدر آزاد کشمیر راجہ ذوالقرنین خان نے مسلم کانفرنس میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ اس بات کا علان انہوں نے پیر کو مسلم کانفرنس کے سرپرست اعلی سابق صدر و وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان،سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اسابق صدر آزادکشمیر راجہ ذوالقرنین خان نے کہا کہ سردار سکندر حیات نے ایک بار پھر مسلم کانفرنس کی کمان سنبھالی،یہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی،ہمارے بزرگوں نے اس جماعت کی آبیاری کی،قائداعظم نے کہا تھا کہ آزادکشمیر میں مسلم کانفرنس ہی مسلم لیگ ہے،اس جماعت کے دروازے سب پرانے کارکنوں کیلئے کھلے ہیں۔

سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ سردار سکندر حیات نے دست شفقت رکھ کر مسلم کانفرنس میں نئی جان ڈالی،راجہ ذوالقرنین مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے قریبی ساتھی ہیں،راجہ ذوالقرنین کی شمولیت سے جماعت مزید مضبوط ہوگی،مسلم کانفرنس کی گاڑی موٹر وے پر چڑھ گئی ہے،مسلم کانفرنس آنے والے دنوں میں کلیدی کردار ادا کرنے جارہی ہے۔ہر آنے والے دن مسلم کانفرنس مزید مضبوط ہوگی ۔

اس موقع پر سابق صدر ووزیر اعظم آزادکشمیر سردار سکندر حیات نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف پر سیاسی رشوت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مجھے 1992 میں نوازشریف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ بناؤ، دو کروڑ روپے دوں گا۔میں نے آزادکشمیر میں مسلم لیگ (ن) بنانے سے انکار کیا،شیخ رشید اور شاہد خاقان عباسی اس بات کے گواہ ہیں، نواز شریف کی میری گاڑی پر نظر پڑ گئی،نواز شریف نے مجھے سے 85 لاکھ کی گاڑی لی ہے،مسلم لیگ ن بنانے کا مقصد نوازشریف کو بچانا تھا۔

 

سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار سکندر حیات نے کہا کہ راجہ ذوالقرنین کو مسلم کانفرنس میں خوش آمدید کہتا ہوں،راجہ ذوالقرنین ایک شخص نہیں قبیلے کا نام ہے،راجاذوالقرنین کے آباؤ اجداد نے آزادی کیلئے قربانیاں دی ہیں،منگ میں ڈوگروں نے لوگوں کی زندہ کھالیں کھینچیں،سیاست میں بہت سے لوگوں سے بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں،مجھ سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں جنہیں تسلیم کرتا ہوں،سردار عتیق نے کچھ باتیں کیں جس کے بعد میں نے سب کچھ چھوڑ دیا۔انہوں نے کہا کہ جب سردار عتیق آئے تو میں نے کہا میرا گھرانہ حاضر ہے،مسلم کانفرنس نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو عزت بخشی،نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں قائد اعظم نے پاکستان بنایا،قائداعظم نے نوجوانوں اور علی گڑھ کے طلبا کو ملا کر آزادی کی تحریک میں شامل کیا۔

سردار سکندر حیات نے کہا کہ مسلم کانفرنس کی لیڈر شپ دین دار ہے،ہمیں زرداری یا لاہور والی گوالمنڈی نہیں ملی،قائداعظم نے کہا کہ مجھے کیوں نہیں بتایا میں غلام عباس کا استقبال کرتا۔سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار سکندر حیات نے کہا کہ مسلم کانفرنس کے آنے سے ایک ٹھراؤ آیا ہے،مسلم کانفرنس کے بغیر کوئی جماعت حکومت نہیں بنا سکے گی، نجیب نقی بھی واپس مسلم کانفرنس میں آجائیں۔نون لیگ کا بیانیہ فوج کو کمزور کرنے کے مترادف ہے،بھارت اس انتظار میں ہے کہ فوج کمزور ہو،فوج کا اعتماد حاصل ہونا کوئی بری بات نہیں ہے۔

Comments are closed.