معصوم لوگوں کی پرواز

 تحریر۔۔مقصود منتظر

راحت فتح علی خان کے گلے کو اللہ پاک سلامت رکھے، سروں کے سرتاج نے ،،دل تو بچہ ہے جی،، گا کر نہ صرف بڑے بڑوں اور ہٹے کٹوں کو ننھی دنیا کی طرف ریورس گئیر لگانے پر اکسایا بلکہ بعض چوڑے دل والوں نے تو یہ مان بھی لیا کہ معصومیت کو زندگی کے دوسرے تیسرے پڑاو تک ساتھ رکھنا بھی ممکن ہے۔

معصوم خواہش کو جگانے کامعاملہ راحت تک کا ہی رہ جاتا تو بندہ گانے پر کان دھرنا مکمل چھوڑ دیتالیکن غزلوں کو جان اور لفظوں کو زبان دینے والے آنجہانی جگ جیت سنگھ کا کیا کریں جنھوں نےکاغذ کی کشتی کے ذریعے شہرت کے سارے سمندر پار کیے،نانی کی رومانوی کہانیاں پوری دنیا کو سنائیں اور بچپن کو پھر سامنے لاکھڑا کیا۔ وہ جو محلے کی بڑھیا کی معصومیت کو کبھی بھولے نہ نازک مزاجیوں کو۔

راحت علی سیلیبرٹی ہیں اور ہم عام لوگ،جگجیت اگلے جہاں کے واسی اور ہم اس جہاں کے مسافر،دونوں کو چند لمحوں کیلے ایک طرف رکھتےہیں لیکن بڑے قدکاٹ اور ٹھا ٹھ باٹھ والے ہم پیشہ اور ایڈیٹر روزنامہ نیل فری نثار کیانی کا کیا کریں۔ کالی کھیتری کے اس انسان کے سامنے تو معصومیت بھی دھنگ رہ جاتی ہے۔

وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں موجود آزادکشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے صحافی دوستوں کاگلدستہ ، کشمیر جرنلسٹس فورم، سیاحتی دورہ ترتیب دیا گیا تو قرعہ فال نکلا، مقبوضہ وادی اور آزاد کشمیر کے درمیان مقدر کی کھینچی خونی لکیر پر واقع ضلع حویلی کے سیاحتی مقام نیل فری کے نام ،دشمن کے پنجوں میں موجود سبزہ زاروں اور فلک پوش پہاڑوں کا احساس دلاتا ، دلوں میں انہیں دیکھنے کی تڑپ بڑھاتا ۔

 دورے کے دوران نیل فری کے پرفضا مقام پر پہنچ کر جب شرمیلے چہرے والےکیانی صاحب نے فیول کے بغیر ہوا میں اڑان بھرنی شروع کی تو یہ منفرد منظر دیکھ کر ہفتے روزہ جنت نظیر کے ایڈیٹر اعجاز خان کی شدید ترین معصومیت سے بھی دھواں اڑنا شروع ہوگیا ۔ ابھی بڑے بھائی کیانی صاحب کی پرواز رن وے پر ہی تھی کہ خان صاحب نے دونوں ایجن آن کرکے ٹیک اوور کردیا۔

 لیکن اونچے مقام پر ہونے والی اونچی اڑانوں میں ہردل عزیر اور  روزنامہ جموں کشمیر کے رپورٹر ذیشان قریشی سب پر بازی لے گئے ۔ ان صاحب کا دو بازوں والا انجن سفر کے دوران وقفےوقفے سے آن ہوتارہا۔ اوپرسے ڈرون کیمرےسے منظر کشی کا مطالبہ بھی جاری رہا۔ذیشان بھائی قافلے میں شامل تازہ ترین دُلہا تھے،شاید زندگی کے ہمسفر کی یہ پر زور فرمائش تھی کہ ایک تو ڈرون والی تصاویر لینی ہیں وہ بھی ہاہیں پھیلا کر تاکہ زبان سے کچھ کہے بغیر محبت بھرا پیغام ملے۔

لال چہرے اور لال لال لہرانے کا نعرہ لگانے والے کامریڈ راجہ ماجد افسر نے بھی معصومیت کاخوب لوہا منوایا،بظاہرہ سنجیدہ طبعیت کے مالک چنار دیس کے راجے نے انڈونیشیا کے ایم ایم تھری سیونٹی کی طرح کشمیر کے حسین وادی میں کھوناچاہا،بار بار باہیں پھیلا کر اڑنا چاہا لیکن وطن پرست کو اعلی ترین معصوم کا اعزاز پانے والے اعجاز عباسی کابھی خیال رہا بالخصوص جب کہنہ مشق صحافی اور صدائے چنار کے ایڈیٹر رانی باغ میں جھولے کھانے میں محو تھے، تاریخ کشمیر کا انسائیکلوپیڈیا کہلانےوالے اعجاز عباسی صاحب بچوں کے جھولوں پر تو بس بچے ہی بن گئے۔

معصومیت کی اس بہتی گنگا میں، میں نے بھی چھلانگ لگانا چاہی مگر ہاتھ کھلتے ہی ہر وقت اڑان بھرنےوالے غلام اللہ کیانی کی معصومیت آڑے آ گئی ۔اڑان کے نام سے کالم لکھتے ہیں، ایک لکھاری ہونے کیساتھ کسی بیوٹی کریم کی طرح فریش،ان کے ہمنوا حویلی کے صحافی پرویز کیانی تھے۔اس معصوم گینگ میں عابد ہاشمی صاحب بھی شامل رہے، سیاستدانوں اور افسروں کو لوہے کے چنے کھلانے والے صحافی۔

کشمیر ایکسپریس کے رپورٹر اور حلقہ احباب میں ہر دلعزیز اقبال اعوان پیر پنجال کی چوٹیوں پر اٹکھلیاں کرتے بادلوں کو چھونے کی کوشش کرتے اور سب کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہے ۔ دو روزہ سیاحتی دورے میں فرنٹ سیٹ کے مکین عقیل انجم صاحب ، مسکراتا چہرہ ، کھل کر قہقہ لگانے کا عادی ، ان کے دونوں ٹائیر (ٹانگیں ) اگرچہ اس سفر کیلئے موزوں نہ تھے لیکن پھر بھی وہ نیلے گگن کو چھونے کے جتن کرتے نظر آئے۔ خوبصورت وادی میں راجہ بشیر عثمانی صاحب بھی اپنے رومانوی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے ، مکیش کے گانوں کی فرمائش کرتے ، شاہد کسی چھپے درد کو سہلانے کی جستجو میں تھے۔جب فرمائش پوری نہ ہوئی تو رانی باغ کے جھولے پر بیٹھ کر راج کمار کی طرح کسی ماضی کی محبوبہ کو یاد کرتے رہے ۔پی ٹی وی کے نیوز کاسٹر نعیم الاسد اور میزبان ثاقب شیر دل راٹھور ٹیک آف نہ کرسکے۔

سردار بڑا ہو یا چھوٹا ، اس کی معصومیت کا کوئی ثانی نہیں،بارہ بجتے ہی سردار احسان صاحب کی گھڑی بھی الٹا گھومنا شروع ہوئی نائنٹی ٹو نیوز سے منسلک شرمیلے صحافی جھولے پر ایسے بیٹھےجیسے کوئی ببلو، یا ،چنو،منو۔

امیر کاررواں اور سلطنت عباسیہ کے موجودہ چشم و چراغ زاہد عباسی صاحب نے رات کو محفل میں تالیاں بجا بجا کر ہاتھ لال کر دئیے اور پھر دوران سفر اپنی مدھر آواز سے سب کو محظوظ کرتے رہے ، شاید اس لیے انہوں نے ہواؤں میں اڑنے کی کوشش نہ کی لیکن ان کی معصومیت اس وقت آشکار ہوئی جب وہ حاجی پیر کی طرف جاتے ہوئے دعائیہ کلام پڑھ رہے تھے ، آنکھوں سے ندامت کا سمندر چھلکنے والا تھا کہ خطرناک موڑ پر لگنے والے جھٹکے نے سب کو آخری کلمات پڑنے پر مجبور کردیا۔

ہائے رےمعصومیت۔۔توں نے کن سے کیا کیا گوایا

ہائے رے معصومیت ۔۔۔تو نےقلم قبیلے سے کیا کیا لکھوایا

Comments are closed.