دوحا قطر: صدر آزاد جموں وکشمیر سردارمسعود خان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل سے پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرائیں تاکہ خطے میں جنگ کے منڈلاتے خطرات کم کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنائے اور ایسے مسائل جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں انہیں ترجیح بنیاد پر حل کرے۔
غیرملکی ٹیلی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کا واحد سبب جموں و کشمیر کا تنازعہ ہے جس کے حل نہ ہونے کی وجہ سے پلوامہ جیسے واقعات رونما ہو تے ہیں۔کشمیری عوام اس ناجائز اور غیراخلاقی قبضہ کے خاتمہ کےلیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پلوامہ واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت اور انتہا پسند ہندو گروپس پاکستان اور کشمیر مخالف جذبات بھڑکا کر جنگ اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ بھارتی حکمرانوں اور انتہا پسند عناصر کی یہ منفی کوششیں دونوں ملکوں کو جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
پلوامہ واقعہ کی آڑ میں بھارت دنیا کی توجہ ایک بڑی حقیقت سے ہٹانا چاہتا ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت گزشتہ 71 سال سے کشمیریوں کو آزادی اور حق خود ارادیت مانگنے کے جرم میں قتل کر رہا ہے۔ نوجوانوں کو اپاہج اور بصارت سے محروم کر رہا ہے اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ انسانیت کے خلاف اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارت کبھی اوڑی ، کبھی پٹھان کوٹ اور کبھی چٹھی سنگھ پورہ کے ڈرامے رچا تا ہے تاکہ دنیا کو یہ باور کرا سکے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے لیے نہیں بلکہ دہشت گردی کے لیے ہے۔
انہوں نے بھارت کے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا کہ پلوامہ واقعہ میں جیش محمد نامی تنظیم ملوث ہے ۔ جیش محمد ایک کالعدم تنطیم ہے جس کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آزاد کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسعود خان نےکہا کہ آزاد کشمیرمیں جبری گمشیدگیوں، اندھا دھند گرفتاریوں ، سیاسی قیدیوں پر وحشیانہ تشددد اور بے گناہ خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کا کوئی وجود نہیں۔ اس لیے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔
صدر آزاد کشمیر نے مذید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی اُمنگوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیے بغیر پلوامہ جیسے واقعات کی روک تھام ہو سکتی اور نہ ہی خطہ میں امن و سلامتی کی صورتحال کویقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ قبل ازیں صدر آزاد کشمیرسردار مسعود خان سے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے قائمقام ڈائریکٹر مصطفی سواگ اور ٹیلی ویژن کی کور ٹیم کے ارکان نے ٹی وی نیٹ ورک کے ہیڈ کوارٹر میں ملاقات بھی کی۔
Comments are closed.