کشمیریوں کی نسل کشی کیخلاف چھٹے روز بھی مکمل ہڑتال

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں 11نوجوانوں کی شہادت پرپلوامہ قصبے میں  چھٹے روز بھی مکمل ہڑتال رہی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پلوامہ قصبے میں 11 نوجوانوں کی شہادت پرچھٹے روزبھی دکانیں،کاروباری مراکز اورتعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں پرٹریفک کی آمد و رفت معطل رہی۔حریت قیادت کے رہنماؤں سیدعلی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نےکشمیری حریت قائدین کے ساتھ بھارتی حکمرانوں کے غیر جمہوری اور غیراخلاقی سلوک اور انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو انسانی اورجمہوری حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے۔

یاسین ملک نے کہا کہ قابض انتظامیہ نے بادامی باغ مارچ کو روکنے کیلیے طاقت کا استعمال کیا۔ نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان فاروق عبداللہ نے کہا کہ وادی کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی شہادت سے لوگوں میں آزادی کا جذبہ پیدا ہورہا ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے سکیورٹی رسک کا بہانہ بناکر کشمیریوں کے روایتی لباس فیرن پہننے پر پابندی عائد کردی۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نئے حکم نامے میں محکمہ تعلیم کے دفاتر اور سول سیکریٹریٹ میں فیرن پہن کر داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔

Comments are closed.