اسلام آباد: بھارتی حکام نے اطلاعات تک رسائی کے لوگوں کے حق پر ایک اور حملہ کرتے ہوئے مقبوضہ جموںوکشمیر اور بھارت بھر میں کشمیر میڈیا سروس کی ویب سائٹ تک لوگوں کی رسائی کو روک دیا ہے۔مقبوضہ جموںوکشمیر اور بھارت میں بہت سے علاقوں سے لوگوںنے فون پر کے ایم ایس کو بتایا کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنے سے قاصرہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ دیگر ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس تک آسانی سے رسائی حاصل کر رہے ہیں لیکن KMS کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل نہیں کرپارہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں مختلف قسم کے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن کا مطلب ہوتا ہے کہ ویب سائٹ آپ کی پہنچ سے دور ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف KMS ویب سائٹ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کے ایم ایس ویب سائٹ کے کچھ ریگولر صارفین نے کہا کہ وہ صرف پراکسی ویب سائٹس کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے تحت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مقبوضہ جموںوکشمیر میں اپنے مظالم کو چھپانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ اس نے ہر قسم کی آزادی خاص کر اظہاررائے کی آزادی پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ مقبوضہ جموںوکشمیر میں 2020 میں متعارف کرائی گئی نئی میڈیا پالیسی سے حالات مزید بدترہوگئے ہیں کیونکہ صحافی بھارتی فوجیوں کے مظالم کی رپورٹنگ آزادانہ طور پر اورغیر جانبدارانداز میںنہیں کرسکتے ۔یہاں تک کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیا واچ جیسی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی اپنی تازہ ترین رپورٹس میں مقبوضہ جموںوکشمیر میں اظہار رائے کی آزادی پرپابندیوں کا ذکرکیا ہے۔انہوں نے نئی میڈیا پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں اور پولیس کی طرف سے کشمیری صحافیوں پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ بھارت ایک طرف معلومات فراہم کرنے والے جائزچینلز کو روک رہا ہے جبکہ دوسری طرف یہ پاکستان اورتحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنے کے لئے جعلی ادارے قائم کر رہا ہے جس کا ثبوٹ حا ل میں ڈس انفو لیب کی طرف سے کئے گئے انکشافات ہیں۔
اس سنگین صورت حال میں کے ایم ایس زمینی صورتحال کے بارے میں خبریں فراہم کررہی ہے۔یہ مظلوم کشمیری عوام اور ان کی قیادت کی آواز بننے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو درپیش مشکلات سے آگاہی فراہم کر رہی ہے جو گزشتہ 74 سال سے بالعموم اور 05 اگست 2019سے بالخصوص بدترین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں۔ کے ایم ایس کے ایڈیٹرز اپنے صارفین تک رسائی کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش کرہے ہیں۔ کے ایم ایس کا ادارہ اپنی ویب سائٹ پر بھارتی حکام کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں سے انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور میڈیا ایسوسی ایشنز کو آگاہ کرنے کی تیاری بھی کررہاہے۔
Comments are closed.