سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی نے نوجوان کشمیری استاد کو دوران حراست تشدد کر کے شہید کر دیا۔
بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی نے رضوان پنڈت نامی استاد کو پلوامہ کے علاقے ایوانتی پورا سے گزشتہ ماہ حراست میں لیا۔ جس کے بعد انہیں بھارتی پولیس کے بدنام زمانہ ‘‘ کارگو کیمپ’’ میں اسے ایک ماہ تک بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اہل علاقہ کے مطابق بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی نے رضوان پنڈت کو گزشتہ ماہ ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد بھارتی پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ کے زیرانتظام چلائے جانے والے کارگو کیمپ میں منتقل کیا گیا۔
مقامی اسکول میں ملازمت کرنے والے شہید استاد رضوان پنڈت کو 30 اگست 2018 میں بھی بھارتی خفیہ ایجنسی نے گرفتار کیا تھا۔
پولیس افسر نے تصدیق کی ہے کہ رضوان پنڈت کو تحریک آزادی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ دوران حراست جاں بحق ہو گئے ہیں۔
معلم کی شہادت کے بعد ایوانتی پورہ اور ملحقہ علاقوں میں کشمیری عوام غاصب بھارتی فوج اور حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاج کیا۔ قابض بھارتی فوج نے پرامن مظاہرہ کرنے والے عوام پر بھی طاقت کا استعمال کیا۔ بھارتی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ، پیلٹ گنز، آنسو گیس کا استعمال کیا۔ جس کی زد میں آ کر متعدد کشمیری مظاہرین زخمی ہو گئے۔
Comments are closed.