اقوام متحدہ کی کشمیر پر قرارداد کو 70 سال مکمل ، تاحال مسئلہ حل طلب

سری نگر: کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے متعلق اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کردہ قرارداد کو 70 سال مکمل ہوگئے لیکن یہ مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے۔

5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی جس میں کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کی حمایت کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ کشمیر میں اس کے زیرِنگرانی آزاد اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کرایا جائے گا جس کے ذریعے کشمیری عوام خود اپنے مستقبل کا تعین کرسکیں گے، لیکن نہایت افسوس ناک امر ہے کہ اس قرارداد پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور معصوم اور نہتے کشمیری عوام روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں لیکن اقوام متحدہ بھارت کے سامنے بے بس نظر آتا ہے تو انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں کا کردار بھی  خاموش تماشائی کا ہے۔

کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری ایک کے بعد ایک نسل کھو رہے ہیں اور آج بھی جبر و تسلط میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ کشمیر پر آج اقوام متحدہ کی قراردادوں کو 70 سال ہوگئے ہیں، قرارداد میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں خون ریزی اور زیرالتواء مسئلہ دنیا کی اجتماعی  ناکامی ہے، پاکستان کشمیریوں کی جدجہدمیں انکی سیاسی،سفارتی اوراخلاقی حمائت جاری رکھےگا۔

Comments are closed.