تحریک آزادی کشمیر کی پشت پر سوا 5 لاکھ لوگوں کی قربانیاں ہیں،نذیر احمد قریشی

اسلام آباد:بربرطانیہ میں مقیم کشمیری عوام کے سفیر اور کشمیر کمپین گلوبل کے سربراہ و ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے بانی رہنما نذیر احمد قریشی نے کہا ہے کہ گوکہ تحریک آزادی کشمیر 1947 سے پہلے شروع ہوچکی ہے لیکن 1989 ء میں کشمیری عوام نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے ایک بھرپور تحریک چلائی ہے جس میں نوجوان اہم کردار ادا کررہے ہیں۔جہاں 06 نومبر 1947 میں لاکھوں کشمیری جموں میں قتل کیے گئے وہیں 1989 ء سے لیکر آج تک ایک لاکھ فرزندان وطن اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ان قربانیوں کی حفاظت ہر کشمیری پر لازم ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے صحافیوں کی تنظیم اوکجا کے نمائندہ وفد کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کرتے ہوئے کیا ہے۔انہوں نے اوکجا وفد پر زور دیا کہ انہیں یہ جان کر دلی خوشی ہوئی کہ آپ لوگ پاکستان کے مختلف میڈیا اداروں میں کام کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتے ہیں البتہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے تاکہ بھارت کو عالمی سطح پر مکمل بے نقاب کیا جائے کیونکہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانیت کےخلاف جرائم میں اسی طرح ملوث ہے جیسے اسرائیل فلسطین میں .انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ابلاغ کا دور ہےاور اس میں ظالم اور جابر قوتوں نے میڈیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ایسے میں ہم کشمیری عوام کو بھارتی چنگل سے کیسے نجات دلائیں اس پر تدبر اور تفکر کی ازحد ضرورت ہے؟انہوں نے کہا کہ آئیڈیالوجی کے دور میں خود کو اصولوں پر کار بند رکھنا بھی بڑی کامیابی ہے اور پھر جب قلم اور کیمرے کا دور دورہ ہو ایسے میں خود کو ہم آہنگ کرنا بھی ناگزیر ہے.نذیر احمد قریشی نے کہا کہ نظریات کی جنگ ہم نے خود لڑنی ہے جس میں سوشل میڈیا بہت اہم ٹول ہے ہم نے اپنے ہم وطنوں کا سفیر بن کر کام کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس بات پر بھی غور و خوض ضروری ہے کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ ہماری سیاسی اور سفارتی حکمت عملی میں کہاں جھول ہے جو دور کرنے کی ضرورت ہے اور بطور صحافی آپ چیزوں کو بہتر انداز میں اجاگر کرسکتے ہیں۔ جس میں لوگوں کو متحرک کرنا بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ کنن پوشپورہ کپواڑہ میں بھارتی درندوں نے سینکڑوں خواتین کو اجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنایا جن میں ایک گونگی بہری بچی بھی شامل تھی۔انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر اور لبریشن فرنٹ پر پابندیاں عائد کرچکا تھا اب شبیر احمد شاہ کی جماعت ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی پر بھی پابندی کی زد میں لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی نقش قدم پر عمل پیرا ہے اگر بھارت اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوگیا تو کشمیری عوام کیلئے آنے والا وقت بڑا سخت اور کھٹن ثابت ہوگا ایسے میں ہم نے اپنی قربانیوں کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کی بھی حفاظت کرنی ہے۔نذیر احمد قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین ایک جیسے تنازعات ہیں جو نام نہاد بڑی طاقتوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔نذیر احمد قریشی 1984 سے اپنے وطن اور عزیز و اقارب سے دور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔وہ پہلے سعودی عرب اور اب برطانیہ میں مسئلہ کشمیر پر سفارت کاری کررہے ہیں ۔وہ زمانہ طالبعلمی سے ہی 1982 میں بھارتی عتاب کے شکار رہے جس کی پاداش میں انہیں اپنا وطن چھوڑا پڑا ہے۔وہ سعودی عب میں قائم وامی نامی تنظیم کے ساتھ بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر کے خارجہ امور کے باہر کی دنیا میں معاملات بھی دیکھ رہے ہیں۔

Comments are closed.