سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور مشترکہ مزاحمتی تحریک میں شامل حریت رہنما یاسین ملک کو پھر گرفتار کر لیا ہے۔
کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے مشترکہ مزاحمتی تحریک کی جانب سے سری نگر میں احتجاجی مارچ کیا گیا۔ جس میں محمد یاسین ملک کی قیادت میں حریت رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین کی جانب سے لال چوک جانے کی کوشش پر پولیس نے یاسین ملک اور دیگر حریت رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں لے کر کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا ہے۔
گرفتاری سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یاسین ملک کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور دیگر عالمی ادارے کشمیری رہنماؤں کی رہائی کے لئے دباؤ ڈالے۔ پولیس نے حریت رہنما مولوی بشیر احمد عرفانی کو ان کی رہائشگاہ سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
حکام نے سری نگر کے مختلف علاقوں میں موسائل فون سروس معطل کر دی تا کہ حریت رہنما سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کو مظاہرین سے خطاب کرنے سے روکا جا سکے۔
Comments are closed.