سری نگر/ اسلام آباد: بھارتی فوجیوں نے ضلع بڈگام میں سرچ آپریشن کی آڑ میں فائرنگ کرکے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور قابض فوج نے دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع بڈگام میں سرچ آپریشن کیا اور گھر گھر تلاشی لی گئی، آپریشن کی آڑ میں بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔
نوجوانوں کی شہادت پر کشمیریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور قابض بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کیا اس دوران قابض فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔
دوسری جانب بھارتی فوج کے ہاتھوں 21 جنوری 1990 میں سری نگر کے گاؤ قدل پُل پر 50 سے زائد مظاہرین کے قتل عام کی یاد میں آج حریت رہنماؤں کی اپیل پر سری نگر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے اور احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔گاؤ کدل سانحہ کی برسی کے حوالے سے احتجاج کی کال دینے پر حریت رہنما یاسین ملک کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کو میسوما میں ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا، حریت رہنما یاسین ملک اور مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے سانحہ گاؤ کدل کی برسی کے موقع پر احتجاج کی کال دی گئی تھی، واقعہ میںکشمیریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔
سینئر حریت رہنما الطاف بٹ نے حریت رہنماؤں کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حریت رہنماؤں کی گرفتاریاں بھارتی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتی ہیں۔ کشمیریوں کے غیرمتزلزل جذبہ آزادی سے بھارت کی ہرچال اور سازش ناکام ہو چکی ہے۔
الطاف بٹ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لیں اور غاصب بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں رکوائیں۔
Comments are closed.