حریت رہنما حفیظ اللہ کے بہیمانہ قتل پر مقبوضہ کشمیر میں احتجاج

سری نگری: تحریک حریت کے سینئررہنما میرحفیظ اللہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف مشترکہ مزاحمتی تحریک کی کال پر آج وادی بھر میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

مشترکہ مزاحمتی تحریک کی جانب سے آج مقبوضہ کشمیر میں نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

گزشتہ روز بھی میرحفیظ اللہ کی بھارتی فوج کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال رہی۔ سری نگر سمیت وادی بھر میں مارکیٹس، دکانیں، دفاتر بند اور پبلک ٹرانسپورٹ سروس مکمل طور پر معطل رہی۔ مشترکہ مزاحمتی تحریک کے احتجاج کی کال پر انتظامیہ نے ریل سروس پہلے ہی بند کر دی تھی۔

حریت چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے میر حفیظ اللہ شہید کے بھائی سے ٹیلی فون پر تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرحفیظ اللہ تحریک آزادی کشمیر کا بہادر سپاہی تھا جو ساری زندگی اپنے مشن کے لیے ڈٹ کر جدوجہد کرتا رہا۔

تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف شیرانی شہید کے گھر پر مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حفیظ اللہ کا قتل بھارتی فوج کا ظالمانہ اقدام ہے ۔

غیرقانونی طور پر قید کیے گئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے اپنے بیان میں کشمیریوں کو کوٹ بھلوال اور کٹھوا جیلوں سے ہریانہ جیل منتقل کرنے کی مذمت کی ہے۔ ان کی ہدایت پر جے کے ایل ایف کے وفد نے شہید کے گھر جا کر اہلخانہ سے تعزیت کی۔

Comments are closed.