سری نگر: مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید 12 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کلگام کے علاقے لارو میں غاصب بھارتی افواج نے گھر گھر سرچ آپریشن کیا۔ اس دوران بھارتی اہلکاروں نے چادر اور چادر دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے بے گناہ کشمیریوں کو زدوکوب کیا اور خواتین کی توہین و بے حرمتی کی۔
چھاپہ مار کارروائی کے دوران قابض فوج نے 3 کشمیری نوجوانوں کوعسکریت پسند قراردے کرشہید کیا۔ آپریشن کے دوران بارود لگاکر ایک مکان کو بھی تباہ کردیا گیا۔ قابض فوج نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ مکان کے ملبے میں بھی بم نصب کردیا۔ جب اہل علاقہ ملبہ سمیٹنے آئے تو وہ بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس سے مزید 2 نوجوان شہید ہوگئے۔ بے گناہ نوجوانوں کی شہادت پر کشمیریوں کی بڑی تعداد گھروں سے نکل آئی اور ریاستی دہشتگردی کے خلاف احتجاج کیا۔
قابض فوج نے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچلنے کےلیے نہتے لوگوں پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں مزید تین نوجوان شہید اور متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔
کٹھ پتلی انتظامیہ نے احتجاج سے روکنے اور کشمیریوں کو رابطے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بھی بند کردیں۔ علاوہ ازیں پلوامہ کے علاقے پٹن میں نامعلوم افراد نے بھارتی فوج پر دستی بم سے حملہ کیا جس سے 2 فوجی زخمی ہوگئے۔
حریت رہنما مشعال ملک نے بھارتی بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سعودی صحافی کے قتل پر شور مچانے والے ٹرمپ کو بھارتی تشدد کیوں نظر نہیں آتا، امریکہ ،برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کو مقبوضہ کشمیر کے حالات پر بھی نظر ڈالنی چاہیئے۔ سینئر حریت رہنما الطاف بٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور دیگر عالمی طاقتیں مودی سرکار کے گرد بھی گھیرا تنگ کریں، انٹرنیٹ بندہو یا موبائل سروس،تحریک آزادی کو دبانا ممکن نہیں۔
Comments are closed.