کوالالمپور: بھارت کے جموں و کشمیر پر ناجائز قبضے کے خلاف ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں یوم سیاہ منایا گیا۔ اس حوالے سے تقریب کا اہتمام پاکستانی ہائی کمشن کوالالمپور نے کیا۔
مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے افراد، سفارتکاروں، مجلس پروندنگان پرتوبوہان اسلام ملائیشیا سے الحاق رکھنے والی غیرسرکاری تنظیموں، خواتین اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی این جی اوز، کاروباری، ادبی شخصیات اور طلبا کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔
تقریب میں صدرمملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کا بھارتی جارحیت کیخلاف یوم سیاہ کی مناسبت سے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ جن میں بھارت کے غیرقانونی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی سات دہائیوں سے جاری جدوجہد آزادی میں دی جانے والی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اوربھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں کیخلاف مظالم و بربریت کی مذمت کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کے پیغام میں مطالبہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ صدرمملکت اور وزیراعظم پاکستان نے کشمیریوں کے ہرسطح پر غیرمتزلزل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 
تقریب میں میرواعظ عمرفاروق کے نمائندہ و آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنونیئرسید فیض نقشبندی، حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک اور کشمیری یوتھ فورم کی رہنما شائستہ صفی کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور نہتے کشمیریوں پر جاری مظالم سے شرکا کو آگاہ کیا۔ بھارتی بربریت سے متاثرہ ان کشمیری مقررین نے بتایا کہ کیسے معصوم کشمیری نوجوانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، عقوبت خانوں میں کشمیری رہنماؤں پر تشدد کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کشمیری خواتین اور لڑکیوں کی عصمت دری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

کشمیری مقررین کا کہنا تھا کہ ماورائے عدالت قتل، گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جاتا ہے، غاصب بھارتی فوج کشمیری رہنماؤں اور کارکنوں کی جبری گمشدگی، جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی منظم کوششیں کر رہی ہیں۔ مقررین نے ملائیشیا حکومت اور عوام سے کشمیریوں کی اخلاقی حمایت کا مطالبہ کیا ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندی کی وجہ سے کشمیریوں کے خلاف جاری مظالم سے متعلق بین الاقوامی برادری کو فوری آگاہی نہیں ہوتی۔
پاکستانی ہائی کمشنر محمد نفیس ذکریا نے اپنے خطاب میں یوم سیاہ کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ مستند ذرائع سے مسئلہ کشمیر کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کی کشمیر سے متعلق قرادادوں کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے کیلیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کی 14 جون 2018 کی رپورٹ کافی ہے۔ محمد نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پیلٹ گن سے متاثرہ زندگی بھر کیلئے بینائی سے محروم معصوم کشمیریوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ آ چکی ہے۔ کشمیریوں کی اجتماعی قبروں سے متعلق انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل کی رپورٹ اور غیرجانبدار بین الاقوامی میڈیا کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی داستان بیان کر رہے ہیں۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ ملائیشیا او آئی سی کا رکن ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ کشمیر کاز کیلئے آواز بلند کرتا رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشعال ملک کا کہنا تھا کہ کشمیری صرف ظلم سہنے والی قوم نہیں بلکہ وہ ایک بہادر قوم ہے جو کئی دہائیوں سے لاکھوں مسلح بھارتی فوجیوں کا نہتے مقابلہ کر رہی ہے۔ کشمیریوں کو صرف ہمدردی نہیں چاہئے بلکہ عالمی برادری کی جانب سے ان کی قربانیوں کو تسلیم اور ان کی جدوجہد آزادی کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
Comments are closed.