سپریم کورٹ میں بینظیرقتل کیس ملزمان کی ضمانتوں کیخلاف درخواست پرسماعت

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں پولیس افسران کی ضمانتوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر، مہرین انور راجا اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماء عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ درخواست گزاررشیدہ بی بی کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس موقع پر پولیس افسران کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزار کے انتقال سے درخواستیں غیرموثر ہو چکی ہیں، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسارکیا بیوہ کے لواحقین نے درخواست دائر کررکھی ہے، گزشتہ سماعت پر رشیدہ بی بی کی بیٹی فریق بن گئی تھی۔

عدالت نے پولیس افسران کی درخواست غیرموثر قرار دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ جسٹس آصف سعید نے استفسار کیا ضمانتیں کس بنیاد پر دی گئیں، اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بھی تحقیقات کیں،  انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ضمانتیں نہیں لی جا سکتیں اور آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کے اختیارات پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا بے نظیر بھٹو کو حفاظتی حصار دیا جانا تھا اور سی پی او ذمہ دار تھا، سعود عزیز نے ایس ایس پی اور دیگر نفری کو بھجوا دیا، بی بی کو پوائنٹ بلینک رینج سے گولی ماری گئی، انہوں نے کراچی اترنے سے پہلے کچھ لوگوں کو نامزد بھی کیا تھا۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ ‘کیا ملزمان کی ضمانت کو ریاست نے چیلنج کیا’ جس پر وکیل لطیف کھوسہ نے کہا اسٹیٹ نے ملزمان کی ضمانت کو چیلنج کر رکھا ہے اور میں نے بھی چیف جسٹس صاحب کو کہا کہ ہماری درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کریں تاہم ہماری عدالت نے ایک مرتبہ بھی سماعت مقرر نہیں کی۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے بینظیر قتل کیس میں نامزد 5 ملزمان کو بری، سابق ایس پی خرم شہزاد اور سابق سی پی او سعود عزیز کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا کا حکم سنایا تھا تاہم ہائیکورٹ نے سزا یافتہ ملزمان پولیس افسران کی ضمانت منظور کرلی تھی۔ جب کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیداد کی قرقی کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے پانچ گرفتار ملزمان رفاقت، حسنین، رشید احمد، شیر زمان اور اعتزاز شاہ کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

Comments are closed.