اسلام آباد: خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کا بیان سکائپ پر ریکارڈ کرانے سے متعلق وکیل صفائی سے تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔ وکیل صفائی کہتے ہیں پرویز مشرف مسئلہ سیکورٹی نہیں صحت ہے، ان کی غیرموجودگی کو مفروری سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔
جسٹس یاورعلی کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت کی۔ سابق صدر کی جانب سے نئے وکیل سلمان ظفر عدالت میں پیش ہوئے پرویز مشرف کی سیکورٹی اب اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہا، اصل مسئلہ صحت کی خرابی ہے، ان کی عمر75 سال ہے،صحت کی پیچیدگیاں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، پرویز مشرف کی غیرموجودگی ان کی مفروری نہیں، انٹرپول نے بھی سابق صدر کی گرفتاری سے معذرت کی ہے۔
جسٹس یاور علی نے استفسار کیا کہ پرویزمشرف سے یہ پوچھ لیں کہ وہ سکائپ پربیان ریکارڈ کرا سکتے ہیں یانہیں؟ جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ پرویز مشرف کا بیان سکائپ کےذریعےریکارڈ نہیں ہوناچاہیے، انہوں نے کہا کہ بینظیرقتل کیس میں غیرملکی گواہ مارک سیگل کا بیان ریکارڈ ہونا ایک مختلف صورتحال تھی، پناماکیس میں بھی غیرملکی گواہ کا سکائپ پر بیان ریکارڈ نہیں ہوسکا تھا۔
پرویز مشرف کے وکیل نے استدعا کی کہ انہوں نے مقدمے کی تمام نقول مانگ رکھی ہیں،، اپنے موکل سے ہدایات بھی لینی ہیں، اس لئے دو ہفتوں کیلئے سماعت ملتوی کی جائے، عدالت نے سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کردی، عدالت نے وکیل صفائی کو حکم دیاکہ ملزم کا بیان سکائپ پر ریکارڈ کرانے سے متعلق وکیل صفائی تحریری جواب پیش کریں۔ مقدمے کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔
Comments are closed.