اسلام آباد: حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 2 منصوبے کے آڈٹ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔
وزیراطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں لگایا گیا قائداعظم سولر پاور پلانٹ دنیا کا مہنگا ترین پلانٹ ہے۔ بھکی، حویلی بہادر شاہ، ساہیوال کول، پورٹ قاسم پلانٹس سے بھی مہنگی ترین بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت دعویٰ کرتی رہی کہ اس نے بجلی کے سستے منصوبے لگائے، (ن) لیگ کے آخری دو برسوں میں بجلی کی قیمت بڑھ کر15 روپے 53 پیسے ہوگئی، اس قیمت پر پیدا ہونے والی بجلی صارفین کو 11 روپے 71 پیسے فی یونٹ میں فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے مجرمانہ کارروائیاں کیں، معاشی منصوبہ بندی کے بغیر فیصلے کیے اور بڑے قرضے لیے جن کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا، گزشتہ دور حکومت میں جس طرح اداروں سے کھلواڑ کیا اس کو بھی سامنے لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کرپٹ عناصر کے احتساب کا فیصلہ حکومت کا نہیں پاکستانی عوام کا ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ جب چوروں اور ڈاکوؤں کے احتساب کی بات کریں تو کہا جاتا ہے یہ لفظ مناسب نہیں، کیا یہ طریقہ مناسب ہے جو پاکستان کے لوگوں کے ساتھ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب سب کچھ اس طرح چلنا ہے تو پھر تحریک انصاف کو حکومت میں آنے کی کیا ضرورت تھی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت سردیوں میں ایک ارب دو کروڑ یومیہ نقصان کررہی ہے، گرمیوں میں بجلی کا ایک ارب 80 کروڑ روپے نقصان حکومت برداشت کررہی ہے اور اس نقصان کی وجہ سے 34 ارب روپے ہر سال گردشی قرضے میں اضافہ ہوا۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ بجلی کی قیمت نیپرا طے کرتا ہے اور یہ ادارہ ہم نے نہیں گزشتہ حکومتوں نے بنایا ہے، نیپرا نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کریں ورنہ روز نقصان ہوگا اور آج 14 ہزار میگاواٹ بجلی کی طلب ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان تمام معاملات پر جلد قوم کو اعتماد میں لیں گے، پاکستان کا مستقبل روش ہے جلد عوام کو خوشخبریاں ملیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے، مستقبل میں بہت بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں آ رہی ہے اور زرمباردلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے 4 مرحلوں میں کام کیا جارہا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے نئی مثال قائم کی، کسی وزیر نے حلقے کا دورہ نہیں کیا، ہمارے خلاف تمام جماعتیں اکٹھی تھیں پھر ہمارا مقابلہ نہ کرسکیں اور تحریک انصاف نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔
Comments are closed.