قاسم سوری کے خلاف کیوں ناں سنگین غداری کی کارروائی کی جائے، چیف جسٹس

قاسم سوری کی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کیس کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس  نے کہا قاسم سوری نے حکم امتناع لے کرپوری اسمبلی انجوائے کی۔  اب کہہ  رہے ہیں اسمبلی ختم تو کیس غیر مؤثر ہوگیا۔  اگر سپریم کورٹ استعمال ہو رہی تھی تو ہم اس غلطی کی تصحیح کرنا جانتے ہیں۔

سپریم کورٹ  نے  سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم    دیاگیا۔  دستخط کے ساتھ خود جواب جمع کرانے کی  بھی  ہدایت کر دی ۔ قاسم سوری کا کیس مقرر نہ ہونے پر رجسٹرار سپریم کورٹ سے بھی تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی گئی ۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ٰکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ درخواست گزارلشکری رئیسانی کے وکیل نے دلائل دئیے کہ قاسم سوری غیر قانونی طور پر عہدے پر براجمان رہے ۔  وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ میری نظر میں نااہلی اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کا معاملہ غیر مؤثر ہو چکا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ  حکم امتناع لے کر اسمبلی کی پوری مدت انجوائے کی۔اب کہہ رہے ہیں اسمبلی ختم تو کیس غیر مؤثر ہوگیا۔  یہ نہیں ہو سکتا کہ عہدہ انجوائے کیا اور چلے گئے۔

 https://www.express.pk/story/1822220/1/اس خبرکو بھی  پڑھیں

چیف جسٹس نے کہاکہ قاسم سوری نے غیر قانونی طور پر اسمبلی توڑی۔     پانچ رکنی بنچ  نے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کی کارروائی کی تجویز دی ۔  کیوں  ناں ان کے خلاف سنگین غداری کی کارروائی کی جائے۔    لشکری رئیسانی کو بھی نوٹس جاری ، سماعت ایک ماہ بعد تک ملتوی کردی۔

 لشکری رئیسانی نے 2018ء کے انتخابات میں این اے 265 سے قاسم سوری کی جیت کوچیلنج کیاتھا۔   الیکشن ٹربیونل نے حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا ۔  سپریم کورٹ نے فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کر دیا تھا۔

Comments are closed.