اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت انسداد دہشتگردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ جس میں وزیردفاع پرویز خٹک، وزیرخزانہ اسد عمر، وزیرمملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی، وزیرقانون فروغ نسیم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط میں بہتری اور نیکٹا کو فعال بنانے سے متعلق تجاویز زیرغور آئیں، دہشت گردی کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اداروں کے آپس میں معلومات تبادلے کو مزید موثربنانے اور نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے نیکٹا کے کردار پر نظرثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے نیکٹا کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دیدی، کمیٹی ایک ہفتے میں اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجز درپیش ہیں، انٹیلی جنس اداروں میں موثر رابطوں کی ضرورت ہے جب کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بڑا چیلنج ہے، اس پر قابو پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیز سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مرہون منت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انٹیلی جنس اداروں کا کردار بہت اہم ہے۔
عمران خان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے نیکٹا کے لیے کچھ خاص نہیں کیا، نیکٹا کے بورڈ آف گورنرز کا ایک اجلاس بھی نہیں بلایا گیا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیکٹا کو فعال اورجدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کے کردار کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
Comments are closed.